رسائی کے لنکس

حسن اور حسین نواز کے اثاثے قرق کرنے کا حکم


فائل فوٹو

تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کی کہ تمام قانونی تقاضے پورے کردیے گئے ہیں جس کے باوجود حسن اور حسین نواز جان بوجھ کر مفرور ہیں لہذا انہیں اشتہاری قرار دیا جائے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں پیش نہ ہونے پر وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جب کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹوں حسن اور حسین نواز کے اثاثے قرق کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت میں اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق ریفرنس کی سماعت منگل کو ہوئی جس میں اسحاق ڈار پیش نہیں ہوئے اور ان کے ضامن کے احمدعلی قدوسی پیش ہوئے۔

جج نے ضامن سے استفسارکیا کہ اسحاق ڈار کہاں ہیں جس پر وزیرِ خزانہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق ان کی صحت یابی میں تین سے چھ ہفتے لگ سکتے ہیں۔

نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے اسحاق ڈار کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی استدعا کی گئی جس پر عدالت نے ملزم کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

گزشتہ سماعت پر احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کے استثنیٰ سے متعلق درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے وزیرِ خزانہ کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو برقرار رکھا تھا۔

منگل کو احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹوں حسن اور حسین نواز کے خلاف نیب کی جانب سے دائر کردہ العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی بھی سماعت ہوئی جس میں نیب کی جانب سے حسن اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دینے کی تعمیلی رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔

سماعت کے دوران فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں تفتیشی افسر محمد کامران، العزیزیہ اسٹیل ملز کے تفتیشی افسر محبوب عالم اور ایوون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس کے تفتیشی افسر عمران ڈوگر نے اپنے بیانات قلم بند کرائے۔

عدالت نے حکم دیا کہ تفتیشی افسر ملزمان کی جائیداد قرق کرنے کا حکم نامہ منگل کو ہی لے کر جائیں۔

تفتیشی افسر محمد کامران نے عدالت کو بتایا کہ حسن اور حسین نواز کی بذریعہ اشتہار طلبی کے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرایا گیا۔ دونوں مفرور ملزمان کے اشتہارات رہائش گاہوں کے باہر اور عدالتی نوٹس بورڈ پر آویزاں کیے گئے۔ ملزمان کی طلبی کی خبریں بھی تمام میڈیا میں رپورٹ ہوئیں اور متعلقہ تھانوں میں اندارج بھی کرایا گیا۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ رائے ونڈ روڈ پر بھی اعلانات بھی کرائے گئے اور لندن میں ایوون فیلڈ پراپرٹیز پر آویزاں کرنے کے لیے نوٹس بذریعہ وزارتِ خارجہ بھجوائے گئے۔

تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کی کہ تمام قانونی تقاضے پورے کردیے گئے ہیں جس کے باوجود حسن اور حسین نواز جان بوجھ کر مفرور ہیں لہذا انہیں اشتہاری قرار دیا جائے۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب کی جانب سے حسین نواز کے چار بینک اکاؤنٹس کی تفصیل بھی عدالت میں پیش کی گئی جس کے مطابق حسین نواز کے ایک نجی بینک میں چار اکاوٴنٹس ہیں جن میں رقم بھی موجود ہے۔

نیب کے مطابق حسین نواز کے ایک بینک اکاوٴنٹ میں 3992 ڈالرز اور دوسرے میں 4272 یورو موجود ہیں۔ حسین نواز کے تیسرے بینک اکاونٹ میں 207.53 پاوٴنڈز اور چوتھے اکاونٹ میں 382381 روپے موجود ہیں۔

سماعت کے دوران احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم کے بیٹوں کے اثاثے قرق کرنے کے احکامات جاری کردیے جس کے بعد سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے فراہم کردہ شیئرز اور بینک اکاونٹس سمیت دیگر پراپرٹی قرق کی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG