رسائی کے لنکس

logo-print

نواز شریف بدستور لندن میں، عدالت میں حاضری سے استثنیٰ منظور


سابق وزیرِ اعظم نواز شریف (فائل فوٹو)

منگل کو نواز شریف کے وکلا نے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سات روز تک حاضری سے استثنٰی کی درخواست دی جس پر عدالت نے سابق وزیرِ اعظم کو چار روز کا استثنیٰ دے دیا۔

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی مریم نواز بدستور لندن میں ہیں جہاں اطلاعات کے مطابق نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کی حالت بدستور تشویش ناک ہے۔

نواز شریف کے بیرونِ ملک موجودگی کے باعث اسلام آباد کی احتساب عدالت نے انہیں حاضری سے چار روز کے لیے استثنیٰ دے دیا ہے۔

نواز شریف اور اُن کی بیٹی مریم نواز گزشتہ ہفتے عید کے موقع پر کلثوم نواز کی عیادت کے لیے لندن روانہ ہوئے تھے لیکن اُن کے برطانیہ پہنچنے سے پہلے ہی کلثوم نواز کو دل کا دورہ پڑا تھا جس کے بعد اُنھیں 'وینٹیلیٹر' پر ڈال دیا گیا تھا۔

قبل ازیں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ کلثوم نواز کو ’وینٹیلیٹر' سے ہٹانے یا نہ ہٹانے کا فیصلہ پیر کو کیا جائے گا لیکن اب یہ فیصلہ مؤخر کر دیا گیا ہے۔

اپنی اہلیہ کی تشویش ناک حالت کے سبب نواز شریف نے پاکستان آنے کا فیصلہ مؤخر کر دیا اور منگل کو ان کے وکلا نے اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سات روز تک حاضری سے استثنٰی کی درخواست دی جس پر عدالت نے سابق وزیرِ اعظم کو چار روز کا استثنیٰ دے دیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال اگست میں کلثوم نواز کے گلے میں سرطان کی تشخیص ہوئی تھی اور وہ علاج کے لیے لندن چلی گئی تھیں جہاں اُن کی ایک سے زائد مرتبہ سرجری ہوئی۔

لیکن گزشتہ ہفتے پڑنے والے دل کے دورے کے باعث اُن کی حالت بگڑ گئی ہے اور وہ لندن کے ایک اسپتال میں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں زیرِ علاج ہیں۔

پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی طرف سے کلثوم نواز کی صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کے پیغامات بھیجے گئے ہیں۔

دریں اثنا سینئر وکیل خواجہ حارث نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے خلاف احتساب میں چلائے جانے والے بدعنوانی کے مقدمات میں ایک مرتبہ پیش ہونے کا فیصلے کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے خواجہ حارث اپنی پوری ٹیم کے ہمراہ یہ کہتے ہوئے نواز شریف کی قانونی ٹیم سے الگ ہو گئے تھے کہ وہ "دباؤ میں کام نہیں کر سکتے۔"

اُنھوں نے یہ فیصلہ چیف جسٹس ثاقب نثار کے اس حکم کے بعد کیا تھا جس میں چیف جسٹس نے نواز شریف کے خلاف قائم بدعنوانی کے تین مقدمات کا فیصلہ احتساب عدالت کو ایک ماہ میں کرنے کا کہا تھا اور مقدمے کی کارروائی جلد چلانے کے لیے چھٹی کے دن بھی سماعت کی ہدایت کی تھی۔

خواجہ حارث کی جانب سے مقدمے میں پیروی سے معذرت کے بعد نواز شریف نے احتساب عدالت کی روبرو موقف اختیار کیا تھا کہ اتنے محدود وقت میں کسی وکیل کے لیے اُن کے مقدمے کی درست انداز میں پیروی کرنا اور کیس لڑنا ممکن نہیں ہوگا۔

XS
SM
MD
LG