رسائی کے لنکس

logo-print

ناروے مسجد فائرنگ کے ملزم کا عدالتی کارروائی میں تعاون سے انکار


ناروے کی مسجد میں فائرنگ کا ملزم فلیپ مینشوس کمرہ عدالت میں۔

ناروے کے شہر اوسلو کی مسجد النور میں فائرنگ کرنے والے 21 سالہ مشتبہ شخص فلیپ مینشوس کی وکیل کا کہنا ہے کہ وہ تحقیقات میں تعاون کرنے سے انکار کر رہا ہے۔

وکیل کے مطابق وہ اپنے اقدام کے بارے میں بات نہ کرنے کا حق استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم اطلاعات کے مطابق ملزم عدالت میں مسکراتا رہا۔

مشتبہ مسلح شخص فلیپ مینشوس کو پیر کے روز اقدام قتل اور قتل کے الزامات کا سامنا کرنے کی غرض سے عدالت میں پیش کیا گیا جس کا تعلق ہفتے کے روز دارالحکومت اوسلو کے قریب واقع مسجد میں ہونے والی فائرنگ سے ہے۔

ملزم کے چہرے اور گردن پر معمولی زخموں کے متعدد نشانات تھے اور اس کی آنکھوں کی رنگت سیاہ تھی۔

تفصیلات کے مطابق مذکورہ مسلح شخص نے مسجد میں داخل ہوتے ہی وہاں موجود تین افراد میں سے دو پر فائر کھول دیا جب کہ تیسرے شخص نے، جو پاکستانی فضائیہ کا ریٹائرڈ افسر محمد رفیق تھا، حملہ آور کو قابو کر لیا اور اس سے بندوق چھین لی۔

اوسلو پولیس کے ڈپٹی انسپیکٹر رونے سکجولڈ نے بتایا کہ پولیس اس نتیجے پر نہیں پہنچی ہے کہ ملزم دائیں جانب جھکاؤ رکھنے والے انتہاپسندانہ نظریات رکھتا ہے اور اس نے یہ اقدام اسی وجہ سے کیا ہے۔

پولیس افسر نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ اس نے جو کچھ کیا ہے اس سے علاقے کے لوگوں میں دہشت پھیلی ہے۔ پولیس کے مطابق مشتبہ شخص نے آن لائن اپنے جن نظریات کا اظہار کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے اس کے خلاف دہشت گردی کے حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہے۔

پولیس کی طرف سے پیر کے روز جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزم کو چار ہفتوں کے لیے جیل میں تنہائی میں رکھا جائے گا جہاں اس پر ملاقاتوں، میڈیا سے بات کرنے اور خطوط بھیجنے یا وصول کرنے پر مکمل پابندی ہو گی۔

ملزم پر فائرنگ کے اس اقدام سے قبل اپنی نوجوان سوتیلی بہن کو قتل کرنے کا بھی الزام ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG