رسائی کے لنکس

logo-print

ایک سرگرم کارکن نے اسٹیٹ ہاؤس سے 'کنفیڈریٹ پرچم' اتار دیا


جنوبی کیرولائنا میں ایک چرچ کے اندر 9 سیاہ فام عبادت گزاروں کو نسلی بنیاد پر قتل کرنے کے الزام کے بعد امریکہ بھر میں عوامی جگہوں سے کنفیڈریٹ کے پرچم ہٹانے کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔

ایک سرگرم کارکن نے ہفتے کو جنوبی کیرولائنا کے اسٹیٹ ہاؤس کے باہر سے کنفیڈریٹ کے پرچم کو اتار دیا، اس سے ایک دن پہلے صدر براک اوباما نے اس کے بارے میں کہا تھا کہ یہ "منظم جبر اور نسلی تسلط کی یاد دلاتا ہے"۔

ایک 30 سالہ سیاہ خاتون جن کی شناخت برٹینی نیوسم کے نام سے کی گئی ہے، کو اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ پرچم کے ساتھ پول سے نیچے اتر رہی تھیں۔ اس واقعہ کی تصاویر اور ویڈیوز سماجی میڈیا پر پوسٹ کی گئیں۔

کولمبیا میں پولیس نے پرچم ہٹائے جانے سے متعلق ایک شخص کو بھی گرفتار کیا ہے۔ ان دونوں پر ایک یادگار کو خراب کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اس واقعہ کے ایک گھنٹے کے اندر کنفیڈریٹ کا بینر پرچم کے پول پر دوبارہ لہرا رہا تھا جبکہ اس کے تھوڑی دیر کے بعد کنفیڈریٹ پرچم نواز مظاہرین اسٹیٹ ہاؤس کے باہر جمع ہو گئے۔

الاباما کی ریاست کے درالحکومت مونٹگمری میں کنفیڈریٹ پرچم کی حمایت میں ایک مظاہرے کا انعقاد کیا گیا جہاں پرچم کو لہرانے اور الاباما کے گورنر رابرٹ بینٹلے سے اپنی ناراضی کے اظہار کے لیے تقریباً 1,000 افراد جمع ہوئے کیونکہ گورنر نے بدھ کو اپنی ریاست کے اسٹیٹ ہاؤس سے کنفیڈریٹ کے چار پرچم ہٹانے کا حکم دیا تھا۔

اس ماہ جنوبی کیرولائنا میں ایک چرچ کے اندر 9 سیاہ فام عبادت گزاروں کو نسلی بنیاد پر قتل کرنے کے الزام کے بعد امریکہ بھر میں عوامی جگہوں سے کنفیڈریٹ کے پرچم ہٹانے کی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔

اسٹیٹ ہاؤس پر یہ پرچم انیسویں صدی میں امریکہ میں خانہ جنگی کے دوران غلامی کی حمایت میں جان دینے والے سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے لگایا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG