رسائی کے لنکس

پوتن سے متعلق ٹرمپ کے بیانات پر مختلف حلقوں کی تشویش


صدر ٹرمپ کا انٹرویو اتوار کو فوکس نیوز پر نشر ہوا تھا

صدارتی انتخابات کے لیے اپنی مہم کے دوران بھی ٹرمپ نے پوتن سے متعلق منفی بات کرنے سے گریز کیے رکھا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں، متعدد امریکی قانون سازوں و سابق فوجی عہدیداران اور سابق سفرا کا کہنا ہے کہ انھیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اپنے روسی ہم منصب ولادیمر پوتن سے متعلق بیانات کے دفاع پر تشویش ہے۔

اتوار کو فوکس نیوز پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے پوتن کے لیے اپنے احترام کا اعادہ کیا تھا۔ جب میزبان بل او ریلے نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے روسی صدر کو ایک "قاتل" قرار دیا تو صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "ہمارے پاس بھی بہت سے قاتل ہیں، آپ کا کیا خیال ہے؟ ہمارا ملک بہت معصوم ہے؟"

صدارتی انتخابات کے لیے اپنی مہم کے دوران بھی ٹرمپ نے پوتن سے متعلق منفی بات کرنے سے گریز کیے رکھا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی امریکہ سے متعلق پروگرام کی شریک ڈائریکٹر ماریا میک فارلینڈ نے پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ انھیں ٹرمپ کے روس سے متعلق بیانات پر پریشانی ہے۔

روس کے صدر ولادیمر پوتن
روس کے صدر ولادیمر پوتن

"یہ بہت سے لحاظ سے عجیب سا بیان ہے۔ لیکن اس کا لب لباب یہ ہے کہ ٹرمپ روسی حکومت کی طرف سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کو مسلسل کم کر کے بات کر رہے ہیں۔ ہم نے حالیہ برسوں میں روس میں آزادی اظہار، ناقدین اور سول سوسائٹی کے گروپس کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں دیکھی ہیں۔ اور اس کے ساتھ ہی ہم نے دیکھا کہ روس شام میں جنگی جرائم میں بھی ملوث پایا گیا ہے۔"

میک فارلینڈ کا مزید کہنا تھا کہ یہ "خوفناک مظالم" ہیں جن پر امریکہ کو کھل کر بات کرنی چاہیے، "اور صدر ٹرمپ کو اس بابت مذاق یا اس کی اہمیت کو کم نہیں کرنا چاہیے۔"

تاہم اتوار کو ہی نائب صدر مائیکل پینس نے "سی بی ایس نیوز" کے ایک پروگرام میں اس خیال کو مسترد کیا کہ ٹرمپ کا بیان امریکہ کو روس جیسا قرار دینے کے مترادف تھا۔

اتوار کو ہی "سی این این" کے ایک پروگرام میں سینیٹ میں ریپبلکن اکثریتی راہنما مچ میکونل کا کہنا تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کے ہر بیان کے ناقد نہیں بننا چاہتے اور ان کا کہنا تھا کہ "ہم اس طرح سے کام نہیں کرتے جس طرح روسی کرتے ہیں۔"

لیکن دیگر ریپبلکن اور ڈیموکریٹس نے امریکہ میں "قاتل موجود" ہونے کے بیان پر سخت تنقید۔

ریپبلکن سینیٹر سوزن کولنز نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ "اس بیان میں کوئی اخلاقی مساوات نہیں تھیں اور اس سے ہمارے ملک کی تاریخ اور ہماری کارگزاری کو نقصان پہنچانا ظاہر ہوتا ہے۔"

سینیٹر باب کیسی (فائل فوٹو)
سینیٹر باب کیسی (فائل فوٹو)

ڈیموکریٹک سینیٹر باب کیسی نے وی او اے سے گفتگو میں کہا کہ "یہ صدر کی طرف سے اشتعال انگیز بیان تھا، یہ بہت حساس تھا اور رہے گا۔ مجھے امید ہے کہ صدر اس پر نظر ثانی کریں گے۔"

"ایم ایس این بی سی" سے گفتگو میں سابق جنرل بیری میکیفری نے ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "اس پر بحث ہو سکتی ہے کہ یہ کسی بھی امریکی صدر کی طرف سے دیا جانے والا اب تک کا سب سے امریکہ مخالف بیان تھا۔ امریکی اقدار کو پوتن کے ساتھ خلط ملط کرنا ہے جو کہ مجرموں کی اشرافیہ چلا رہے ہیں۔"

سابق جنرل بیری میکیفری (فائل فوٹو)
سابق جنرل بیری میکیفری (فائل فوٹو)

2012ء سے 2014ء تک روس میں بطور امریکی سفیر فرائض انجام دینے والے مائیکل میک فاول نے واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون لکھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ ٹرمپ کیوں مستقل پوتن کا دفاع کر رہے ہیں۔ ان کے بقول اس کی ایک توجیہہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ وہ ماسکو کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتےہیں۔

ان کا کہنا تھا زیادہ تشویش ناک توجیہہ یہ ہو گی کہ ٹرمپ حقیقاً پریس اور منحرفین سے متعلق پوتن کی پالیسیوں اور خیالات کے مداح ہیں۔

میک فاول نے لکھا کہ امریکی جمہوری ادارے روس کے ایسے اداروں سے کہیں زیادہ مضبوط ہیں۔ لیکن انھوں نے امریکیوں پر زور دیا کہ وہ اس سے لاتعلق نہ رہیں اور مطلق العنانی کی طرف کسی چھوٹے سے قدم کے خلاف بھی کھڑے ہو جائیں۔

XS
SM
MD
LG