رسائی کے لنکس

مون سون کا موسم شروع ہوتے ہی شدید بارشوں کے باعث پاکستان کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے حادثات میں اب تک 70 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ ہفتہ سے ملک کے مختلف حصوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔

گزشتہ سال برسوں سے پاکستان کو مون سون کے موسم میں سیلابوں کے علاوہ موسمیاتی تغیرات کی وجہ سے شدید ترین موسموں کا سامنا رہا ہے جس میں جانی نقصان کے علاوہ بڑے پیمانے پر زرعی شعبے اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچ چکا ہے۔

ماہرین یہ متنبہ کرتے آئے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں ٹھوس اور دو رس اقدام کرنے کی ضرورت ہے وگرنہ آنے والے سالوں میں صورتحال گمبھیر ہو سکتی ہے۔

ایسی ہی منظر کشی ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی جمعہ کو اپنی جاری کردہ رپورٹ میں کی اور کہا کہ غیر معمولی اقتصادی ترقی کی ڈگر پر چلنے والے ایشیا کے ممالک نے اگر موسمیاتی تبدیلیوں پر توجہ نہ دی تو اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستان بھی ایشیا کے ان ملکوں میں شامل ہے۔ گو کہ یہ ملک عالمی حدت میں اضافے کا سبب بننے والی مضر گیسز کے اخراج میں نہ ہونے کے برابر حصہ ڈال رہا ہے لیکن موسمیاتی تغیرات سے متاثر ہونے والے پہلے دس ملکوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔

محکمہ موسمیات کے سابق سربراہ اور بین الاقوامی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی کی تنظیموں سے وابستہ رہنے والے ڈاکٹر قمر زمان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ سے اتفاق کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں پالیسی سازی کرتے ہوئے تیزی سے بدلتے ہوئے موسمی رجحانات کو مدنظر رکھنا از حد ضروری ہے۔

"وزارت ماحولیات صوبوں کے ساتھ مل کر کام تو کر رہی ہے لیکن اس رپورٹ کے بعد ان کوششوں کو مزید سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ خاص طور پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے تناظر میں مختلف شعبوں میں پالیسیاں بنا کر ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے، خوراک اور پانی کے ذخائر پر توجہ دی جانی چاہیے۔"

حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے کم سے کم متاثر ہونے کے لیے پالیسی بھی وضع کی ہے اور اس ضمن میں کوششیں بھی جاری ہیں لیکن وفاق کے علاوہ دیگر صوبوں کو بھی اس بارے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG