رسائی کے لنکس

logo-print

آفاق احمد کی ’نائن زیرو‘ جانے اور متحدہ سے مذاکرات کی پیشکش


آفاق احمد نے کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مہاجر قوم کی بقا کے لئے انہوں نے اپنی انا کو دفن کر دیا ہے۔ اس غرض سے وہ نائن زیرو جانے کے لئے بھی تیار ہیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’تحریر، تقریر اور دلائل کی سیاست لڑائی کی سیاست سے بہتر ہے‘‘

سنہ 1992 میں متحدہ قومی موومنٹ سے علیحدگی اختیار کرنے والے مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کے رہنما، آفاق احمد نے متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کو مذاکرات کی پیشکش کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ متحدہ کے مرکز ’نائن زیرو‘ جانے یا متحدہ کے رہنماوٴں کو اپنے پاس بلانے کے لئے تیار ہیں۔ تاہم، وہ کسی بھی صورت، مہاجروں کے حقوق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

پیر کی شام ایم کیو ایم۔حقیقی کے رہنما آفاق احمد نے کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مہاجر قوم کی بقا کے لئے انہوں نے اپنی انا کو دفن کر دیا ہے۔ اس غرض سے، وہ نائن زیرو جانے کے لئے بھی تیار ہیں۔

ادھر متحدہ قومی موومنٹ کے ترجمان اور سینئر پارٹی رہنما امین الحق کا کہنا ہے کہ فوری طور پر اس پیشکش پر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے، معمول کے مطابق اس کا جائزہ لیں گے۔

آفاق احمد کا یہ بھی کہنا تھا کہ تحریر، تقریر اور دلائل کی سیاست لڑائی کی سیاست سے بہتر ہے۔ محاذ آرائی کے بجائے مہاجروں کی بھلائی کیلئے بیٹھ کر بات کرنے کو تیار ہوں، اس سلسلے میں بات چیت کے لیے علاقے کے بزرگوں کو بھی ساتھ بٹھایا جاسکتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار آفاق احمد کی پیشکش کو سندھ کی شہری سیاست میں اہم پیش رفت کے ساتھ ساتھ اسے ڈرامائی تبدیلی بھی قرار دے رہے ہیں۔ یہ پیشکش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب متحدہ قومی موومنٹ کے ارکان اسمبلی سمیت متعدد رہنما مصطفیٰ کمال کی سیاسی جماعت ’پاک سرزمین پارٹی‘ میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں۔

اس حوالے سے متحدہ قومی موومنٹ کا موقف ہے کہ ایم کیو ایم کو کمزور کرنے کیلئے کارکنوں کو وفاداریاں تبدیل کرنے اور ’پاک سرزمین پارٹی‘ میں شامل ہونے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG