رسائی کے لنکس

logo-print

مقتول افغان شہری کی تصویر کے اجراء پر امریکی فوج کی معذرت


مقتول افغان شہری کی تصویر کے اجراء پر امریکی فوج کی معذرت

امریکی افواج نے ان تصاویر کے اجراء پر معذرت کی ہے جن میں دو امریکی فوجیوں کو ایک افغان شہری کی لاش کے ہمراہ دکھایا گیا تھا ۔

مذکورہ تصاویر پیر کے روز جرمنی کے جریدہ "دار اسپیجل"کی جانب سے شائع کی گئی تھیں۔ ان تصاویر میں دکھائے گئے امریکی فوجیوں کو اسپیشلسٹ جرمی مورلوک اور پرائویٹ فرسٹ کلاس اینڈریو ہومز کے نام سے شناخت کیا گیا ہے۔ مذکورہ دونوں افراد ان پانچ فوجی اہلکاروں میں شامل ہیں جن پر ایک امریکی فوجی عدالت میں نہتے افغان شہریوں کو قتل کرنے کو الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

پیر کے روز امریکی افواج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں ان تصاویر کی اشاعت سے ناظرین کو پہنچنے والی ذہنی اذیت پر معذرت کی گئی ہے۔

بیان میں ان تصاویر کو " بحیثیت انسان ہمارے لیے ذہنی اذیت کا باعث" اور "ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی افواج کے معیار اور اقدار کی صریحاً خلاف ورزی " قرار دیا گیا ہے۔

جرمن جریدہ کی جانب سے شائع کردہ تصاویر ان شواہد کا حصہ تھیں جنہیں جنوبی افغان صوبہ قندھار میں گزشتہ سال ہلاک ہونے والے تین افغان شہریوں کے قتل کی تحقیقات کرنے والے امریکی تفتیشی اہلکاروں نے اپنے قبضہ میں لیا تھا۔

مقدمہ کی سماعت کرنے والے ایک امریکی فوجی جج نے ان تصاویر کی اجراء اور اشاعت پر پابندی عائد کررکھی تھی۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ مذکورہ تصاویر"دار اسپیجل" تک کیسے پہنچیں۔

جرمن جریدے کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے اتحادی افواج کے ہاتھوں افغان شہریوں کی ہلاکتوں کے معاملے کی گزشتہ پانچ ماہ سے تحقیقات کی جارہی تھیں۔ جریدے کے دعویٰ کے مطابق تحقیقات کے دوران اسے چار ہزار سے زائد تصاویر اور ویڈیوز حاصل ہوئیں جن میں سے صرف تین تصاویر شائع کی گئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG