رسائی کے لنکس

logo-print

اعلٰی سطحی افغان وفد کی مولانا سمیع الحق اور سراج الحق سے ملاقات


افغانستان کے وفد کے ارکان جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق کے ساتھ۔

پاکستان میں تعینات افغان سفارتکاروں نے بتایا ہے کہ کابل سے آئے ہوئے اعلیٰ سطح کے وفد نے جمعیت العماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق اور جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق سے ملاقات کی ہے اور ان سے افغانستان کی موجودہ صوتحال پر دوطرفہ بات چیت کی ہے۔ افغان وفد نے پاکستانی سیاسی رہنماؤں سے افغانستان میں تشدد، دہشت گردی کے خاتمے اور قیام امن میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔

افغان سفارتکار نے بتایا کہ مولانا سمیع الحق سے افغان رہنماؤں کی ملاقات دارلعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں اتور کے روز ہوئی تھی جبکہ جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق سے ناشتے پر ملاقات سوموار کو ہوئی ہے ۔

مولانا سمیع الحق کے ساتھ ملاقات دو سے ڈھائی گھنٹے جاری تک جاری رہی جس میں وفد نے مولانا سمیع الحق کوطالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کی اور افغان حکومت کے جانب سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی ۔

مولانا سمیع الحق نے وفد کو بتایا کہ افغانستان میں قیام امن کا مسئلہ بین الاقوامی ہے اور اس کے حل کے لئے تمام دھڑوں کو سنجیدگی کے ساتھ سامنے آنا چاہیے ۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ اکیلے اتنی بڑی ذمہ داری نہیں لے سکتے، البتہ اُن کی دلی خواہش ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو اور مزید خونریزی بند ہو ۔

مولانا سمیع الحق نے وفد کو تجاویز پیش کیں کہ امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے پہلے مرحلے میں چند علماء کرام جن پر امریکہ، افغانستان اور پا کستانی حکومت کا کوئی عمل دخل نہ ہو، کسی خفیہ مقام پر مل بیٹھ کر متحارب گروہ کے ساتھ ملاقاتیں کر کے اُن کے مؤقف اور نقطہ نظر کو جان لیں تاکہ مذاکراتی عمل آگے بڑھانے میں آسانی ہو۔

مولانا سمیع الحق نے وفد پر واضح کیاکہ افغانستا ن میں امن کے لئے پہلا قدم بیرونی افوج کا انخلاء ہے۔

دونوں رہنماؤں سے ملاقات کے بعد اب افغان مذہبی اور سیاسی رہنماؤ ں پر مشتمل وفد واپس چلا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG