رسائی کے لنکس

logo-print

سرحد کی نگرانی پر بات چیت، افغان وفد پاکستان کا دورہ کرے گا


افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے کمانڈر جنرل جان نکلوسن نے راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی دعوت پر افغان وفد آئندہ ہفتے کے اوائل میں اسلام آباد کا دورہ کرے گا۔

سرتاج عزیز نے طورخم سرحد پر پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں رواں ہفتے قومی اسمبلی میں ایک پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ اُنھوں نے افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حنیف اتمر اور افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی کو پاکستان کے دورے کے دعوت دی تھی۔

افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر اور وزیر خارجہ تو پاکستان نہیں آ رہے البتہ اب افغانستان کے نائب وزیر خارجہ حکمت خلیل کرزئی کی قیادت میں افغان وفد 20 جون کو اسلام آباد آئے گا۔

پاکستانی وزارت خارجہ سے ہفتے کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ افغان وفد سے طورخم سرحد کے علاوہ دوطرفہ سرحد کی نگرانی سے متعلق اُمور پر بات چیت کی جائے گی۔

بیان میں افغان وفد کی طرف سے پاکستان آنے کے اعلان کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس اُمید کا اظہار بھی کیا گیا کہ بامعنی اور تعمیری رابطوں سے تعلقات اور صورت حال میں بہتری آئے گی۔

افغان وفد کی پاکستان آمد کا اعلان ایسے وقت کیا گیا جب کشیدگی کے باعث کئی روز تک بند رہنے والی طورخم سرحد دوطرفہ مذاکرات کے بعد ہفتے کی صبح آمد و رفت کے لیے کھول دی گئی۔

پاکستان نے طورخم سرحد کے ذریعے لوگوں کی آمد و رفت کو منظم بنانے کے لیے ایک گیٹ کی تعمیر شروع کی تھی جس پر افغانستان کو اعتراض ہے۔

اسی گیٹ کی تعمیر کے سبب دونوں ملکوں کی سرحدی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔

توقع کی جارہی کہ افغان وفد کے دورہ پاکستان کے دوران دوطرفہ تناؤ میں کمی اور رابطوں میں فقدان کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔

اُدھر افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے کمانڈر جنرل جان نکلوسن نے راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے ایک بیان کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے دوطرفہ اُمور، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور پاک افغان سرحد کو منظم بنانے کے طریقہ کار سے متعلق معاملات پر بات چیت کی گئی۔

پاکستان کا کہنا کہ سرحد کی نگرانی کو موثر بنانے کے لیے طورخم کے علاوہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دیگر مقامات پر بھی ایسے (گیٹ) یعنی دروازے بنائے جائیں گے۔

حالیہ برسوں میں پاکستان کی طرف سے ناصرف افغان حکومت بلکہ افغانستان میں تعینات بین الاقوامی افواج کے کمانڈروں سے پاک افغان سرحد کی نگرانی موثر بنانے کے حوالے سے بات چیت ہوتی رہی ہے۔

پاکستانی حکام کا ماننا ہے کہ سرحد کی کڑی نگرانی سے دونوں ہی ملکوں میں امن و امان کے لیے کی جانے والی کوششیں کامیاب ہوں گی۔

XS
SM
MD
LG