رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی فوجیوں کے استثنیٰ کا فیصلہ جرگہ کرے گا، افغان صدر


صدر کرزئی کا کہنا تھا کہ امریکی فوجیوں کو استثنیٰ دینے سے متعلق کسی معاہدے پر اتفاقِ رائے میں آٹھ سے نو مہینے لگ سکتے ہیں۔

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ 2014ء میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد باقی رہنے والے امریکی فوجیوں کو افغان قوانین سے مستثنیٰ قرار دینے کا فیصلہ قومی جرگے کو کرنا چاہیے۔

پیر کو اپنے ایک بیان میں افغان صدر کا کہنا تھا کہ امریکی فوجیوں کو کسی جرم کے ارتکاب کی صورت میں افغان قوانین کے تحت قانونی کاروائی سے استثنیٰ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ افغان حکومت کے بجائے افغان عوام کرے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملہ پر غور کے لیے 'لویہ جرگہ' بلانا چاہیے جو افغان قبائل کے سربراہان اور مرکزی شخصیات پر مشتمل ہوتا ہے۔

صدر کرزئی نے گزشتہ ہفتے امریکہ کا دورہ کیا تھا جہاں ان کی وہائٹ ہائوس میں صدر براک اوباما سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔

اس ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں صدر اوباما نے خبردار کیا تھا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے 2014ء میں انخلا کے بعد امریکی فوجی دستوں کے افغانستان میں قیام کا فیصلہ صرف اسی صورت میں کیا جائے گا جب امریکی فوجیوں کو افغان قوانین سے مستثنیٰ قرار دیا جائے تاکہ ان کے خلاف کسی مقامی عدالت میں مقدمہ نہ چلایا جاسکے۔

پیر کو اپنے بیان میں صدر کرزئی کا کہنا تھا کہ امریکی فوجیوں کو استثنیٰ دینے سے متعلق کسی معاہدے پر اتفاقِ رائے میں آٹھ سے نو مہینے لگ سکتے ہیں۔
XS
SM
MD
LG