رسائی کے لنکس

logo-print

افغان انتخابات: اقوا مِ متحدہ کا محتاط اندازہ


افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے ایلچی نے گذشتہ ماہ ملک میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات سےمتعلق محتاط تخمینہ پیش کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ افغان انتخابی عمل میں بہتری آئی ہے لیکن دھاندلیوں کے واقعات سرزد ہوئے ہیں۔

اسٹیفن ڈِی مستورا نے بدھ کے روز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو 18ستمبر کے انتخاب پر اپنی رپورٹ پیش کی۔ اُنھوں نے کہا کہ ابتدائی رپورٹوں سے ووٹوں میں بڑے پیمانے پر یا سوچی سمجھی دھاندلی کا کوئی اشارہ نہیں ملتا، جِس میں 40لاکھ 30ہزار ووٹروں نے پارلیمان کے ایوانِ زیریں کی 249نشستوں کے لیے امیدواروں کا انتخاب کیا۔

لیکن، مستورا نے بتایا کہ ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر بے قائدگیاں ہوئیں ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ افغانستان کی انتخابی شکایات سے متعلق کمیشن کو 3600سے زائد شکایات موصول ہوئی ہیں، جِن میں بیلٹ بکسوں میں ووٹ ٹھونسنے ، بیلٹ پیپروں کی کمی سے لے کر فراڈ اور ڈرانے دھماکے کے معاملات شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ایلچی نے کہا کہ آزاد الینےد کمیشن (آئی اِی سی) کےافغان ادارے نے گذشتہ برس کے صدارتی انتخابات کے مقابلے میں ووٹوں کے بندوبست میں نمایاں بہتری دکھائی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اب آئی اِی سی ووٹوں کی گنتی اور شکایات سننے کا ایک انتہائی حساس کام سرانجام دے رہی ہے۔

پارلیمانی انتخاب کے حتمی نتائج اکتوبر کے آخر تک متوقع ہیں۔

ڈِی مستورا نے بتایا کہ افغانستان کے اقوامِ متحدہ کے مشن میں ووٹنگ سے متعلق سکیورٹی کے 490واقعات ریکارڈ ہوئے، جو کہ صدارتی انتخاب کے دوران ہونے والے 290واقعات کے مقابلے میں ایک اضافہ ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اِس ماہ الیکشن کے روز ہونے والے تشدد کے واقعات کے باعث 32شہری ہلاک اور 35زخمی ہوئے۔

سنہ 2009میں افغان صدر حامد کرزئی کا دوبارہ انتخاب بڑے پیمانے پر انتخابی دھاندلی کی شکایات پر منتج ہوا تھا۔ الزامات کی پاداش میں افغان اہل کاروں نے مسٹر کرزئی کو ملنے والے ایک تہائی ووٹوں کو خارج قرار دیا۔

XS
SM
MD
LG