رسائی کے لنکس

logo-print

افغان پارلیمان کے افتتاحی اجلاس کے انعقاد کا خیر مقدم


افغان پارلیمان کے افتتاحی اجلاس کے انعقاد کا خیر مقدم

اقوام متحدہ نے افغان پارلیمان کے ایوان زیریں یا ولسی جرگے کا افتتاحی اجلاس منعقد کرنے کے حوالے سے افغان صدر اور نو منتخب اراکین کے درمیان سمجھوتے کا خیر مقدم کیا ہے۔

کابل میں اقوام متحدہ کے دفتر کی طرف سے منگل کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ طرفین کے درمیان طے پانے والے اس سمجھوتے نے افغان جمہوری نظام میں پارلیمان کے لیے اپنا اہم کردار دوبارہ ادا کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔

بدھ کو کابل میں پارلیمان کے 249 نشستوں پر مشتمل ایوان زیریں کے افتتاحی اجلاس کی تیاریاں جاری ہیں جس میں اقوام متحدہ کے علاوہ غیر ملکی سفارت کار بھی شرکت کریں گے۔ سلامتی کے خطرات کے پیش نظر دارالحکومت میں اجلاس کے موقع پر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

افغانستان کی سیاسی صورت حال گذشتہ ہفتے اُس وقت انتہائی سنگین ہو گئی تھی جب ستمبر 2010ء میں ہونے والے انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور بدعنوانی کی تحقیقات کرنے والے خصوصی عدالتی ٹربیونل کے مطالبے پر صدر حامد کرزئی نے نئی پارلیمان کا افتتاحی اجلاس مزید ایک ماہ کے لیے موخر کرنے کا اعلان کر دیا تاہم نو منتخب اراکین کے ساتھ تین روز تک جاری رہنے والے مذاکرات اور سپریم کورٹ سے مشاورت کے بعد صدر نے گذشتہ شب یہ اجلاس بدھ کو بلانے کا اعلان کیا تھا۔

پارلیمان کے اراکین کی اکثریت کا موقف ہے کہ بدعنوانی کے الزامات کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی عدالتی ٹربیونل کا قیام خلاف آئین ہے اور اُنھوں نے اس پانچ رکنی ٹربیونل کی منسوخی کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ بین الاقوامی برادری بھی اس ٹربیونل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کر رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG