رسائی کے لنکس

logo-print

ایران سرحد کے قریب افغان افواج نے فرح شہر کا کنٹرول سنبھال لیا


طالبان (فائل)

افغان سلامتی افواج نے بدھ کے روز پھر سے مغربی صوبہٴ فرح کے دارالحکومت کا مکمل سرکاری کنٹرول سنبھال لیا، جس سے ایک ہی روز قبل طالبان کشیدگی ایرانی سرحد کے قریب واقع اس شہر پر قبضہ کر لیا تھا۔

منگل کی علی الصبح ایک مربوط حملے کے بعد کلیدی سرکاری تنصیبات پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے فوج فرح شہر میں داخل ہوئی، جن میں پولیس اور انٹیلی جنس صدر دفتر شامل ہے۔

صوبائی گورنر عبدالباصر سالنگی نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ امریکی حمایت یافتہ افغان افواج نے جوابی کارروائی کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں 300 سے زائد طالبان ہلاک جب کہ باغی شہر سے پسپا ہوگئے۔

سالنگی نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ منگل کے روز باغیوں کےخلاف جھڑپوں میں کم از کم 25 افغان افواج اور متعدد شہری ہلاک ہوئے۔ اُن کے اندازے کے مطابق، حملے میں تقریباً 2000 باغی شامل تھے۔

امریکی فوج نے ایک وڈیو فٹیج بھی جاری کیا ہے جس میں افغان فورسز کی حمایت کے ساتھ طالبان ٹھکانوں کے خلاف فضائی کارروائیاں کرتے دکھایا گیا ہے۔

تاہم، ایک طالبان ترجمان، قاری یوسف احمدی نے سرکاری دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُن کے عسکریت پسندوں نے ’’دشمن‘‘ فورسز کے 63 لڑاکوں کو ہلاک کیا ، جس کے بعد حکمت عملی کی بنیاد پر فرح سے انخلا اختیار کیا گیا تاکہ قبضے میں لیے گئے فوجی آلات اور گاڑیوں کو نکال کر شہر کے قریب واقع ٹھکانوں کی جانب لے جایا جا سکے۔

احمدی نے زور دے کر کہا کہ اپنے مشن کے حصول کے بعد طالبان کے نو افراد نے اپنی جان گنوائی؛ اور کسی مخالفت کے بغیر علاقے سے باہر نکل گئے، جس روئیداد کی مقامی آبادی نے بھی تصدیق کی ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ بدھ کے روز لڑائی تھمنے کے بعد زندگی معمول پر آگئی اور مارکیٹ کھل گئے ہیں؛ اور منگل کے روز ہونے والی لڑائی کے بعد اپنا گھر بار چھوڑ کر بھاگ نکلنے والے افراد اپنے گھر لوٹ آئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG