رسائی کے لنکس

logo-print

افغان فورسز نے قندوز شہر کا ’کنٹرول حاصل کر لیا‘


قندوز پولیس کے سربراہ قاسم جنگل باغ نے جمعرات کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز شہر کے وسط میں موجود ہیں ’’ہم شہر کے تمام علاقوں کو طالبان سے صاف کروانے میں کامیاب ہو گئے ہیں‘‘۔

افغانستان کے عہدیداروں کے مطابق سکیورٹی فورسز نے طالبان سے شمالی شہر قندوز کا قبضہ چھڑا لیا ہے۔

جمعرات کو حکام کے مطابق رات بھر جاری رہنے والی شدید لڑائی اور افغان اسپیشل فورسز کی کارروائی کے بعد یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔

قندوز پولیس کے سربراہ قاسم جنگل باغ نے جمعرات کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز شہر کے وسط میں موجود ہیں۔

شہر کے پولیس سربراہ نے کہا کہ افغان سکیورٹی فورسز کی معاونت سے ’’ہم شہر کے تمام علاقوں کو طالبان سے صاف کروانے میں کامیاب ہو گئے ہیں‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’ہم اس وقت قندوز کے مرکزی چوک میں پہنچ چکے ہیں اور میں نے قندوز کے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ اپنی معمولات زندگی جاری رکھیں۔‘‘

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے بتایا کہ افغانستان کی سکیورٹی فورسز نے رات گئے ایک بڑی کارروائی کا آغاز کیا، جس میں سینکڑوں طالبان زخمی و ہلاک ہوئے۔

وزارت داخلہ کے مطابق اس وقت حکام کی توجہ شہریوں کی مدد پر ہے اور ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ طالبان دوبارہ سکیورٹی فورسز کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نا کر سکیں۔

قندوز کے رہائشیوں نے بھی صحافیوں کو بتایا کہ شہر افغان سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔ طالبان نے پیر کو تین اطراف سے بڑا حملہ کر کے اس شہر پر قبضہ کیا تھا۔

مقامی ٹی وی چینلز نے افغان نیشنل آرمی کے نائب سربراہ جنرل مراد علی مراد کے حوالے سے بھی کہا ہے کہ لڑائی میں "سینکڑوں طالبان جنگجو مارے گئے۔" تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

ادھر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے کچھ دیر کے لیے شہر کا کنٹرول حاصل کیا لیکن یہ دعویٰ کیا کہ اُنھیں پھر پیچھے دھکیل دیا گیا۔

اقوام متحدہ کے مطابق قندوز میں ہونے والی لڑائی سے 100 سے زائد عام شہری ہلاک یا زخمی ہوئے جب کہ لگ بھگ چھ ہزار افراد شہر سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔

افغان سکیورٹی فورسز کی کمک کو قندوز تک پہنچنے میں اس بنا پر تاخیر کا سامنا کرنا پڑا کہ طالبان نے شاہراہوں کو جگہ جگہ سے بند کر رکھا تھا جب کہ بارودی سرنگیں بھی بچھا رکھی تھیں۔

قندوز میں مقامی سکیورٹی فورسز کی مدد کے لیے افغانستان میں تعینات نیٹو اور امریکی لڑاکا طیاروں نے بھی فضائی کارروائیاں کی تھیں۔

2001ء میں امریکہ کی زیر قیادت اتحادی ممالک کی کارروائی کے بعد افغانستان سے طالبان کا اقتدار ختم ہو گیا تھا۔ اُس کے بعد سے گزشتہ 14 سالوں میں طالبان پہلی مرتبہ کسی شہر پر قبضے کرنے میں کامیاب ہوئے۔

تاہم افغان فورسز نے کارروائی کے بعد شہر دوبارہ کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

جنگجوؤں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور پھر ایک اہم شہر پر تسلط قائم کرنے کو جہاں حکومت کے لیے دھچکہ قرار دیا جا رہا ہے وہیں مقامی سکیورٹی فورسز کی استعداد کار پر بھی کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے خبررساں ایجنسی "رائیٹرز" سے گفتگو میں کہا کہ قندوز پر قبضے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ افغان فورسز کے لیے بین الاقوامی معاونت جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG