رسائی کے لنکس

ہلمند میں 300 امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا خیر مقدم


افغان فوجی صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین میں طالبان کے خلاف کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

ہلمند أفغانستان کے 34 صوبوں میں سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کی سرحد پاکستان اور ایران کے ساتھ ملتی ہے۔ أفغان حکام دونوں ہمسایہ ملکوں پر یہ الزام لگاتے ہیں وہ طالبان کی مدد کر رہے ہیں۔

ایاز گل

امریکہ تقریباً 300میرینز کا ایک گروپ تیار کر رہا ہے جسے أفغانستان کے جنوبی صوبے هلمند میں تعینات کیا جائے گا تاکہ ان علاقوں کو طالبان سے واپس لینے میں مقامی فورسز کی مدد کی جا سکے۔ پچھلے سال کے دوران طالبان نے صوبے کے کئی اضلاع پر قبضہ کر لیا تھا۔

حالیہ مہینوں کے دوران صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ پر بھی طالبان نے متعدد حملے کیے ہیں تاہم أفغان فورسز اس کا دفاع کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔

ہلمند أفغانستان میں سب سے زیادہ پوست کاشت کرنے والا صوبہ ہے جسے 2016 کے دوران شدید لڑائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

صوبے کے مختلف حصوں میں اب بھی لڑائیاں جاری ہیں، خاص طور پر ایک اہم ضلع سنگین میں۔

بدھ کے روز طالبان کی طرف سے داغا جانے والا ایک میزائل لشکرگاہ کے مرکزی حصے میں گرا تھا جس سے کئی شہری ہلاک اور زخمی ہو گئے تھے۔

لیکن ہلمند کے نئے گورنر حیات اللہ حیات کو یقین ہے کہ أفغان فورسز اس سال امریکی میرینز کی مدد سے جنگ کے میدانوں میں کامیابیاں حاصل کریں گی۔

لشکرگاہ سے ٹیلی فون پر وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں توقع ہے کہ ہم اپنے کنڑول کے علاقوں میں وسعت لائیں گے اور ان لوگوں تک پہنچنے میں کامیاب رہیں گے جنہیں طالبان انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور ہم انہیں آزاد کرائیں گے۔

انہوں نے ہلمند میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا، لیکن ان کا کہنا تھا کہ امریکی فورسز کا کردار صرف أفغان فورسز کی مشاورت، نگرانی اور تربیت تک محدود ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے کیونکہ ہمارے فوجیوں کو تربیت اور ہتھیاروں سے لیس کرنے کی ضرورت ہے۔

اس ہفتے أفغانستان کے لیے امریکی انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہلمند کے 14 میں سے 8 اضلاع پر شورش پسندوں کا کنڑول یا اثر و رسوخ قائم ہے۔

أفغان گورنر کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو سال کی لڑائیوں میں أفغان فورسز نے کافی کچھ سیکھا ہے اور اب وہ آنے والے مہینوں میں طالبان سے بہتر طور پر لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

لیکں گورنر حیات کا کہنا تھا کہ طالبان کو چاہیے کہ وہ تشدد میں کمی لائیں تاکہ بات چیت کی راہ ہموار ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں بات چیت کی میز پر آنا چاہیے ۔ ہم صر ف اسی طریقے سے اپنے ملک کو خوشحال اور مستحکم بنا سکتے ہیں۔

ہلمند أفغانستان کے 34 صوبوں میں سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کی سرحد پاکستان اور ایران کے ساتھ ملتی ہے۔ أفغان حکام دونوں ہمسایہ ملکوں پر یہ الزام لگاتے ہیں وہ طالبان کی مدد کر رہے ہیں۔

ہلمند کے گورنر نے پاکستان اور ایران پر زور دیا کہ وہ أفغانستان میں شورش اور جنگ کے خاتمے اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنا اثر ورسوخ استعمال کریں ۔

انہوں نے ہمسایہ ملک پاکستان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ طالبان کمانڈر اپنے وطن واپس چلے گئے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں ان کے رہنے کا کوئی محفوظ ٹھکانہ موجود نہیں ہے۔

پاکستان اور ایران دونوں أفغان حکومت کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

گورنر حیات نے یہ توقع ظاہر کی کہ صدر ٹرمپ کی نئی انتظامیہ أفغان فوج کی معاونت اور شہری آبادی کی بحالی کے پروگرام جاری رکھے گی۔

اس وقت أفغانستان میں نیٹو کے پروگرام کے تحت تقریباً 8400 امریکی فوجی موجود ہیں جو دہشت گردی کی روک تھام اور القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ کے خلاف کارروائیوں میں مشاورت ، تربیت اور نگرانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG