رسائی کے لنکس

logo-print

قندھار بم دھماکے میں ہمارے پانچ سفارت کار ہلاک ہوئے: عرب امارات


زخمی ہونے والوں میں صوبائی گورنر ہمایوں عزیزی اور متحدہ عرب امارات کے کابل میں سفیر جمعہ محمد عبداللہ الکعبی بھی شامل ہیں۔

متحدہ عرب امارات نے تصدیق کی ہے کہ منگل کو افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں ہونے والے بم حملے میں اس کے پانچ سفارتکار بھی ہلاک ہوئے۔

اس بم دھماکے میں کم ازکم 11 افراد ہلاک اور 16 زخمی ہو گئے تھے اور ان میں اکثریت افغان حکومت کے اعلیٰ حکام کی تھی۔

زخمی ہونے والوں میں صوبائی گورنر ہمایوں عزیزی اور متحدہ عرب امارات کے کابل میں سفیر جمعہ محمد عبداللہ الکعبی بھی شامل ہیں۔

دبئی کے فرمانروا اور متحدہ عرب امارات کے وزیراعظم و نائب صدر شیخ محمد بن راشد المکتوم نے ٹوئٹر پر بدھ کو ایک پیغام میں کہا کہ "بم حملہ کر کے ایسے لوگوں کو ہلاک کرنا جو لوگوں کی مدد کے لیے کوشاں ہوں، اس کا انسانی، اخلاقی یا مذہبی طور پر کوئی جواز نہیں۔۔۔خدا ہمارے شہیدوں پر مہربان ہو اور انھیں اپنے صالحین میں شامل کرے۔"

متحدہ عرب امارات کی وزارت خاجہ نے منگل کو کہا تھا کہ ان کے سفیر افغان یتیم بچوں کی مدد اور انہیں وظائف دینے کی ایک امدادی سرگرمی کے سلسلے میں قندھار گئے تھے۔

طالبان نے اس حملے میں کسی بھی طرح ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے اس حملے کا الزام "مقامی سطح پر اندرونی مخاصمت" پر عائد کیا۔

اس حملے سے قبل منگل کو ہی دارالحکومت کابل میں ہونے والے دو خودکش بم دھماکوں میں 37 افراد ہلاک اور 98 زخمی ہو گئے تھے۔

افغان وزارت صحت نے ہلاک و زخمی ہونے والوں کے اعداد و شمار بدھ کو از سر نو جاری کیے۔

ان حملوں میں متاثر ہونے والوں میں سرکاری ملازمین، سکیورٹی حکام اور عام شہری اور قانون ساز شامل ہیں۔ خودکش بمباروں نے پارلیمنٹ کے دفاتر سے نکلنے والے ایک قافلے کو نشانہ بنایا تھا۔

طالبان کے ترجمان نے فوری طور پر یہ اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ایک خودکش بمبار نے اپنے جسم سے بندھے بارود میں دھماکا کیا جس کے بعد دوسرے حملہ آور نے اپنی بارودی سے بھری گاڑی میں دھماکا کیا۔

امریکہ نے افغانستان میں تشدد کے ان واقعات کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ "پارلیمنٹیریئن پر حملہ، جمہوریت پر ایک حملہ ہے۔ ہم اس میں ہلاک و زخمی ہونے والوں کے خاندان اور احباب سے اظہار تعزیت کرتے ہیں۔"

انھوں نے واشنگٹن کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ افغاں قوم کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور افغانستان کے لیے ایک محفوظ، پرامن اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کے عزم پر قائم ہے۔

طالبان نے جنوبی صوبہ ہلمند کے مرکزی شہر لشکر گاہ میں ایک سکیورٹی اجلاس پر فائرنگ اور بم حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی۔ اس واقعے میں 10 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے تھے جن میں اکثریت اعلیٰ سکیورٹی حکام کی تھی۔

XS
SM
MD
LG