رسائی کے لنکس

logo-print

افغان حکومت نے طالبان قیدی رہا کرنے شروع کر دیے


قندھار جیل میں بند طالبان اور عسکریت پسند قیدی۔ فائل فوٹو

افغانستان کی حکومت نے یک طرفہ طور پر سینکڑوں طالبان قیدیوں کی رہائی کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کو افغانستان کی طویل ہلاکت خیز جنگ کے خاتمے کے سیاسی حل کی تلاش کی جانب پیش رفت قرار دیتے ہوئے طالبان اور امریکہ دونوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے۔

پچھلے ہفتے صدر اشرف غنی نے خیرسگالی کے طور پر اگلے دو مہینوں کے دوران تقریباً 900 قیدیوں کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر طالبان جنگجوؤں اور درجنوں دوسرے افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔

اس وقت سرکاری طور پر کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں لیکن افغان میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حکام نے منگل کے روز تک تقریباً 300 افراد کو رہا کر دیا تھا۔

طالبان کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں افغانستان کی مختلف جیلوں سے طالبان قیدیوں کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے اور حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ یہ سلسلہ جاری رکھیں۔

طالبان نے کہا ہے کہ صدر اشرف غنی نے جن قیدیوں کی رہائی کا وعدہ کیا ہے ان میں طالبان ارکان کی تعداد صرف 261 ہے جب کہ باقی ماندہ غیر جنگجو افراد ہیں جنہیں مقامی فورسز اور ان کے امریکی اتحادیوں نے عام شہریوں کے گھروں پر رات کے چھاپوں کے دوران مبینہ طور پر گرفتار کیا تھا۔

افغانستان کے لیے امریکہ کے سفیر جان باس نے کابل حکومت کی جانب سے عسکریت پسند قیدیوں کی رہائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے تنازع کے سیاسی تصفیئے کے لیے فضا بہتر ہو گی۔

امریکہ اور طالبان کے مذاكرات کار اس مہینے کے آخر میں بات چیت کے ایک اور دور کی تیاری کر رہے ہیں تاہم تنازع کے دیرپا حل کے لیے طالبان کو حملے بند کرنے اور افغانوں کے درمیان مذاكرات پر آمادہ کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG