رسائی کے لنکس

logo-print

افغان اسپتال پر حادثاتی بمباری جنگی جرم نہیں: پینٹاگان


رپورٹ میں فضائی کارروائی کو جنگی جرم قرار نہیں دیا گیا، چونکہ ’’اس میں ملوث اہل کاروں کو اِس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ کسی طبی تنصیب کو نشانہ بنا رہے ہیں‘‘۔ سزا میں تنبیہ کے خطوط کے علاوہ ’’ترقی نہ دینا‘‘ اور ’’ممکنہ طور پر ملازمت سے علیحدگی‘‘ شامل ہے

امریکی فوج نے اُن 16 فوجیوں کے خلاف انضباطی کارروائی کی ہے جنھوں نے گزشتہ سال افغانستان میں ہونے والی مہلک فضائی کارروائی میں کردار ادا کیا تھا، جس میں 42 افراد ہلاک ہوئے، جب کہ ایک اسپتال کو نقصان پہنچا، جسے بین الاقوامی امدادی طبی ادارہ ’ڈاکٹرز وداؤٹ بارڈرز‘ کے زیر انتظام چلایا جاتا تھا۔

تفتیشی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقع جنگی جرم نہیں ہے۔

امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ، جنرل جوزف ووٹل نے جمعے کے روز پینٹاگان میں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ اس واقعے میں کی جانے والی تفتیش سے پتا چلتا ہے کہ یہ المناک واقعہ ’’غیر معمولی کڑی صورت حال‘‘ کا نتیجہ تھا، جن کا باعث متعدد آلات کی ناکامی بنا۔

اُنھوں نے کہا کہ اس فضائی حملے کو جنگی جرم قرار نہیں دیا گیا، چونکہ ’’اس میں ملوث اہل کاروں کو اِس بات کا علم نہیں تھا کہ وہ کسی طبی تنصیب کو نشانہ بنا رہے ہیں‘‘۔

بقول اُن کے، ’’یہ حقیقت ہے کہ یہ عمل غیر دانستہ تھا، اس بات کی گواہی ہے کہ اسے جان بوجھ کر نہیں کیا گیا، چونکہ انسانوں یا محفوظ مقامات کو جان بوجھ کر ہدف بنانا جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے‘‘۔

تفتیش کے یہ نتائج امریکی فوج کی جانب سے نومبر میں کی گئی ابتدائی چھان بین کے مطابق ہیں، جب کمانڈروں نے یہ بات واضح کی تھی کہ امریکہ کی بَری اور فضائی افواج نے دانستہ طور پر اسپتال کو ہدف نہیں بنایا تھا۔

ووٹل کے مطابق، فوجی سزا میں تنبیہ کے خطوط کے علاوہ ’’ترقی نہ دینا‘‘ اور ’’ممکنہ طور پر ملازمت سے علیحدگی‘‘ شامل ہے۔

سولہ امریکی فوجیوں میں ایک دو اسٹار والا جنرل بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG