افغانستان میں مقامی اور نیٹو افواج نے ایک مشترکہ چھاپے میں پانچ مشتبہ طالبان عسکریت پسندوں کو عین اُس وقت گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہےجب وہ مبینہ طور پر کابل میں حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے۔
نیٹو نے اتوار کو جاری ہونے والےایک بیان میں کہا ہے کہ افغانوں کی زیرقیادت مشترکہ چھاپہ مار ٹیم نے بھاری مقدار میں بارودی مواد، خودکش بم دھماکوں میں استعمال ہونے والاسامان اوراسلحہ بھی اپنے قبضے میں لیا ہے۔
افغان انٹیلی جنس ایجنسی ’نیشنل ڈائریکٹوریٹ فار سکیورٹی‘ کے عہدے داروں نے نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ عسکریت پسند کابل میں افغان پارلیمان اورنائب صدر(دوم) محمد کریم خلیلی کی رہائش گاہ پرخودکش حملوں کا ارادہ رکھتے تھے۔
حکام کے بقول ایک پاکستانی سمیت زیرِحراست پانچ افراد سے’’افغان فوج کی وردیاں، پاکستان سے تعلق رکھنے والی شناختی دستاویزات، ٹیلی فون نمبر اور کرنسی‘‘ بھی برآمد ہوئی ہے۔
’’یہ شواہد دہشت گردوں کے سرحد پار پاکستان میں رابطوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔‘‘
نیٹو نے اتوار کو جاری ہونے والےایک بیان میں کہا ہے کہ افغانوں کی زیرقیادت مشترکہ چھاپہ مار ٹیم نے بھاری مقدار میں بارودی مواد، خودکش بم دھماکوں میں استعمال ہونے والاسامان اوراسلحہ بھی اپنے قبضے میں لیا ہے۔
افغان انٹیلی جنس ایجنسی ’نیشنل ڈائریکٹوریٹ فار سکیورٹی‘ کے عہدے داروں نے نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ عسکریت پسند کابل میں افغان پارلیمان اورنائب صدر(دوم) محمد کریم خلیلی کی رہائش گاہ پرخودکش حملوں کا ارادہ رکھتے تھے۔
حکام کے بقول ایک پاکستانی سمیت زیرِحراست پانچ افراد سے’’افغان فوج کی وردیاں، پاکستان سے تعلق رکھنے والی شناختی دستاویزات، ٹیلی فون نمبر اور کرنسی‘‘ بھی برآمد ہوئی ہے۔
’’یہ شواہد دہشت گردوں کے سرحد پار پاکستان میں رابطوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔‘‘