رسائی کے لنکس

logo-print

حقانی سے ملاقات کی خبر درست نہیں


افغان صدر حامد کرزئی کے ترجمان وحید عمر نے پیر کو کابل میں ہفتہ وار نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ نہ تو افغان حکومت کے کسی عہدے دار اور نہ ہی صدر کرزئی نے حکومت مخالف حقانی گروپ کے سربراہ سراج الدین حقانی سے کوئی ملاقات کی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ افغانستان میں حال ہی میں ہونے والے مشاورتی قومی جرگے کے انعقاد کا مقصد حکومت اور صدر کرزئی کو مشورہ یہ دینا تھا کہ ملک میں امن کے عمل کو کیسے آگے بڑھایا جا ئے ۔ ترجمان نے کہا کہ جرگے کی سفارشات بالکل واضح ہیں جن میں ایک اعلیٰ سطحی امن کونسل کی تشکیل شامل ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس وقت حکومت کی توجہ اس کونسل کی تشکیل ہے جو مذاکرات اور مصالحت کے عمل کی قیادت کرے گی۔

جلال الدین حقانی (فائل فوٹو)
جلال الدین حقانی (فائل فوٹو)

صدراتی ترجمان نے کہا کہ حقانی گروپ یا طالبان کے کسی لیڈر نے نہ تو کابل کا دورہ کیا ہے اور نہ ہی صدرکرزئی یا حکومت کے کسی نمائندے نے اُن سے کوئی ملاقات کی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ رپورٹ بے بنیاد، افغان حکومت کے لیے باعث تشویش اور محض ایک پراپیگنڈہ مہم ہے جس کا مقصد افغانستان میں امن کے عمل کو نقصان پہچانا ہے۔

الجزیرہ ٹی وی کی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر کرزئی اور حقانی کے درمیان ملاقات میں پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے اعلیٰ عہدے دار بھی موجود تھے اور اس بات چیت کو ممکن بنا کر پاکستان اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ افغانستان میں مستقبل میں جو بھی حکمت عملی وضع کی جائے اس میں پاکستانی مفادات کو تحفظ حاصل رہے۔

مغربی اور افغان ناقدین یہ الزام لگاتے آئے ہیں کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی کے حقانی نیٹ ورک سے پرانے اور گہرے رابطے ہیں اور حکومت مخالف یہ گروپ افغانستان میں غیر ملکی افواج پر حملوں کے لیے افغان سرحد کے قریب پاکستان کے شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقے کو استعمال کر رہا ہے۔ لیکن پاکستانی فوجی حکام ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں جب کہ ُانھوں نے افغان صدر اور حقانی گروپ کے لیڈر کی ملاقات کرانے کی اطلاعات کو بھی بے بنیاد قرار دیا ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے افغان وزیر خارجہ زلمے رسول نے اسلام آباد کے دورے کے دوران پاکستانی قائدین سے ملاقاتوں میں اس بات پر زور دیا تھا کہ افغانستان میں قیام امن کی کوششیں پاکستان کی مدد کے بغیر کامیا ب نہیں ہوں گی۔

XS
SM
MD
LG