رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان سے بات چیت بھارت کے لیے مشکل فیصلہ ہو گا: تجزیہ کار


امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے سے قبل طالبان وفد کے ارکان دوحہ میں دستخطوں کی تقریب کے لیے آ رہے ہیں۔ 29 فروری 2020

امریکہ کے نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے گزشتہ دنوں بھارت کے دورے میں کہا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ بھارت افغانستان میں قیام امن کے لئے سرگرم کردار ادا کرے۔

بعد میں انہوں نے انگریزی زبان کے اخبار 'دی ہندو' کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردی کے مسئلے پر بھارت کو طالبان سے براہ راست مذاکرات کرنے چاہئیں۔

ادھر دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر بھارت افغانستان سے متعلق اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے تو وہ اس کے ساتھ مذاکرات کر سکتے ہیں اور پاکستان نے سرکاری طور پر اس بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔

امریکہ میں پاکستان کے سفیر نے کہا ہے کہ اگر بھارت سمجھتا ہے کہ اس سے امن کے عمل میں مدد ملے گی تو اسے طالبان سے بات چیت کرنی چاہیے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ بھارت کو ہی کرنا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے۔

ادھر طالبان سے براہِ راست مذاکرات کی خلیل زاد کی تجویز پر بھارت نے بہت محتاط رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

یہ جاننے کے لیے کہ بھارت طالبان سے براہ راست مذاکرات کیوں نہیں کرنا چاہتا؟ ہم نے بھارت پاکستان اور افغانستان میں تجزیہ کاروں سے بات کی۔ جنہوں نے اس حوالے سے مختلف خیالات کا اظہار کیا ہے۔

اخبار ہندوستان نئی دہلی کے ایڈیٹر پرتاب سوم نوشی نے اس بارے میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اول تو بھارت میں یہ ایک نفسیات بن گئی ہے کہ جس طرح جیش محمد یا لشکر طیبہ کا نام سنتے ہی لوگوں کے ذہن میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کا تصور ابھرتا ہے، اسی طرح طالبان کا نام آتے ہی دہشت گردوں کو پناہ دینے والے کسی گروپ کا ذہن میں تصور آتا ہے اور بھارتی حکومت اس نفسیات سے آگاہ ہے۔

دوسرے یہ کہ بھارتی حکومت پاکستان کے ساتھ طالبان کے تعلق سے آگاہ ہے۔ اس لیے وہ ان پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ بھارت کے افغان حکومت سے بہت اچھے تعلقات ہیں اور ان تعلقات کی قیمت پر وہ طالبان سے ہرگز مذاکرات نہیں کرنا چاہیں گے۔

اس سوال کے جواب میں کہ اگر مستقبل میں طالبان کسی حکومت کا حصہ بنتے ہیں اس وقت کیا صورت ہو گی؟ تو پرتاب سوم نوشی نے کہا کہ اس کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ اس حکومت میں طالبان کا کتنا حصہ ہے۔

افغان تجزیہ کار اور صحافی انیس الرحمان نے اس بارے میں وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا افغان حکومت سے گہرا اور دیرینہ تعلق ہے۔ وہ افغانستان کی ترقی کے کام میں بھرپور مدد کر رہا ہے۔ افغان فوج کی تربیت کے سلسلے میں بھی اس کا اہم کردار رہا ہے، تو اس سب کے باوجود وہ افغان حکومت کے مخالفین کے ساتھ مذاکرات کی میز پر کیونکر بیٹھنا چاہے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت بھارت میں مسلمان اقلیت کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے پیش نظر اسے یہ خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے کہ اگر وہ طالبان کے ساتھ بیٹھے گا تو شاید بھارت میں مسلمانوں کی حوصلہ افزائی ہو اور وہاں کوئی تحریک وغیرہ شروع نہ ہو جائے۔

انیس الرحمان نے کہا کہ سب سے بڑھ کر یہ کہ بھارتی حکومت کے ذہن میں اس وقت کی یادیں بھی تازہ ہوں گی جب افغانستان میں طالبان کی حکومت تھی اور بھارت کا ایک طیارہ اغوا کر کے افغانستان لایا گیا تھا اور پھر اپنے جہاز اور مسافروں کو چھڑانے کے لئے اسے جیش محمد اور لشکر طیبہ کے لوگ چھوڑنے پڑے تھے۔ اس لئے وہ طالبان پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہوں گے۔

افغان امور کے ایک پاکستانی ماہر اور تجزیہ کار طاہر خان نے وائس آف امریکہ کو اس سلسلے میں بتایا کہ وہ سمجھتے کہ بھارتی حکومت کا خیال ہے کہ اگر اس نے طالبان سے بات کی تو افغان حکومت کو یہ تاثر جائے گا کہ اس نے طالبان کو بطور ایک جائز ہستی تسلیم کر لیا ہے اور یوں اس کے افغان حکومت سے تعلقات بگڑ سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ افغان حکومت خواہ پاکستان ہو یا کوئی اور ملک طالبان سے ان کے میل جول کو پسند نہیں کرتی۔ پھر انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر جعلی اور جھوٹی خبریں لگا کر اشتعال بڑھایا جا رہا ہے۔ جیسے کہ حال ہی میں ٹوئٹ آئے ہیں جنہیں افغان طالبان سے منسوب کیا گیا ہے جن میں کہا گیا کہ طالبان غزوہ ہند شروع کر دیں گے وغیرہ وغیرہ جن کی طالبان کی طرف سے تردید آ گئی ہے۔

طاہر خان کا کہنا تھا کہ گو پاکستان نے سرکاری طور پر اس سلسلے میں کچھ نہیں کہا لیکن ہو سکتا ہے کہ خلیل زاد کی تجویز میں پاکستان کی بالواسطہ یا بلا واسطہ رضامندی شامل ہو۔ کیونکہ پاکستان کا موقف رہا ہے کہ افغانستان میں امن ایک مشترکہ ذمہ داری ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کا بھی رول تو بنتا ہے جو اسے ادا کرنا چاہئیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG