رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان افغان امن کے حصول کی حمایت جاری رکھے گا: سفیر


امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر، اسد مجید خان۔

پاکستان نے انتہائی سنجیدگی اور اخلاص سے افغانستان میں امن کے قیام کے لیے کوششیں کی ہیں اور وہ اس مقصد کے حصول کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔

اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر اسد مجید نے جمعے کو ایک امریکی تھنک ٹینک کو بتایا کہ افغانستان میں دیرپا امن کا قیام تبھی ممکن ہوگا جب افغانستان کی حکومت اور طالبان اسے مشترکہ مقصد سمجھ کر امن عمل کو آگے بڑھائیں گے۔

اسد مجید نے کہا کہ امریکہ اور طالبان کے مابین طے پانے والا معاہدہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ افغان فریقین بھی آپس میں امن کی خاطر مل کر کام کر سکتے ہیں۔

اس ہفتے افغانستان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان حملوں نے افغان عوام کو یکجا کر دیا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے 2014 میں پشاور کے اے پی ایس اسکول پر حملوں نے پاکستانی قوم کو اکٹھا کیا تھا۔

پروگرام کے میزبان، ووڈرو ولسن میں قائم 'ایشیا سینٹر' کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور جنوبی ایشیا کے ایسوسی ایٹ، مائیکل کوگلمن کے ایک سوال کے جواب میں اسد مجید نے کہا کہ رمضان اور کرونا کے بحران میں اس وقت تمام افغان دھڑے مل کر کام کر سکتے ہیں، تاکہ تشدد کے واقعات میں کمی آئے۔ اور امریکہ اور طالبان میں طے پانے والے معاہدے کی روشنی میں افغانستان امن کی جانب بڑھ سکے۔

ولسن سینٹر کی صدر جین ہرمن کے ایک سوال کے جواب میں پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ کئی سالوں میں افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر حقانی گروپ سمیت جنگجوؤں اور دہشت گردوں کے خلاف بہت سی کارروائیاں کیں ہیں۔

اُن کے بقول اب پاکستان کے قبائلی علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا گیا ہے؛ اور اس علاقے کو قومی دھارے میں شامل کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ کسی بھی فرد یا گروہ کو پاکستان کی سرزمین خطے میں دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

پاک امریکہ تعلقات پر بات کرتے ہوئے، سفیر نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات دو طرفہ بنیادوں پر مزید آگے بڑھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان پہلے ہی سے موجود روابط اور دیرینہ تعلقات ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں کہ دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیں۔

انہوں نے کہا کہ پاک امریکہ تعلقات کو افغانستان، بھارت یا چین سے متعلقہ کسی زاویے سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

اسد مجید نے خاص طور پر تجارتی تعلقات کو فروغ دینے پر زور دیا اور کہا کہ کرونا کے بحران کے بعد دونوں ممالک کو اس سلسلے میں کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے امریکی وزیر تجارت ولبر راس کے حالیہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے سے دو طرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو آگے بڑھانے میں بہت مدد ملے گی۔

انہوں نے پاکستان کو کرونا وائرس کے بحران سے مقابلہ کرنے کے سلسلے میں پندرہ ملین ڈالر کی امریکی امداد کو سراہا۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت آٹھ ارب ڈالر کے ریلیف پیکج کے تحت اس چیلنج سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ احساس پروگرام کے ذریعے اب تک تقریباً 20 لاکھ سے زائد لوگوں کو امدادی رقوم فراہم کی جا چکی ہیں، جن میں پاکستان میں بسنے والی اقلیتیں بھی شامل ہیں۔

سفیر اسد مجید خان نے پاکستانی امریکیوں کی تعریف کی کہ وہ ناصرف امریکہ میں کرونا کا مقابلہ کرنے میں پیش پیش ہیں، بلکہ انہوں نے پاکستان میں بھی اس بحران سے نمٹنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG