رسائی کے لنکس

logo-print

عید پر عارضی جنگ بندی اُمید کی کرن: افغان مہاجرین


افغانستان کے صدر اشرف غنی کی طرف سے طالبان کے خلاف کارروائیاں روکنے اور جنگ بندی کے اعلان کے بعد طالبان نے بھی عیدالفطر کے موقع پر تین روز تک سرکاری فورسز پر حملے نا کرنے کا فیصلہ کیا۔

اگرچہ صدر اشرف غنی نے عید کے موقع پر حکومت کی طرف سے جنگ بندی میں یکطرفہ طور پر توسیع کا بھی اعلان کیا، لیکن طالبان کی طرف سے مثبت جواب نہیں دیا گیا۔

تاہم، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے صدر اشرف غنی کی پیشکش کا خیرمقدم کیا تھا۔

17 جون کی شب تین روزہ جنگ بندی کے خاتمے کے، بعد طالبان نے ملک کے کئی علاقوں میں حملے کیے۔

افغانستان میں اس عارضی جنگ بندی کے بارے میں پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی، اور اُن کا کہنا ہے کہ ''امن کے جس سفر کی شروعات ہوئی ہے اُسے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے''۔

افغان مہاجرین کا کہنا ہے کہ عارضی جنگ بندی اُن کے ملک میں امن کے لیے اُمید کی ایک کرن ہے۔

اسلام آباد کے پکے گھروں سے کچھ فاصلے پر کچی افغان بستی میں مقیم افغان مہاجرین میں سے بعض سے 'وائس آف امریکہ' سے گفتگو میں کہا کہ جنگ بندی میں توسیع ہونی چاہیئے تھی۔

افغان پناہ گزین گلاب خان کہتے ہیں کہ رابطوں کا یہ سلسلہ جاری رکھنا چاہیئے۔ بقول اُن کے، ’’ہم لوگ تو بہت خوش ہوئے تھے اور بڑا خوشی کا دن تھا۔ ہم نے بھی فیس بُک اور میڈیا میں دیکھا ہے طالبان اور افغان حکومت کے لوگ ایک دوسرے سے عید مل رہے ہیں۔ نماز ادا کی ہے ایک جگہ پر۔ بڑا خوشی کا دن تھا۔ اُدھر بھی لوگ خوش تھے اور اِدھر بھی خوش ہیں۔ اور، دعا بھی اور آرزو بھی یہی ہے کہ اللہ افغانستان میں امن لائے اور یہ خوشی قائم و دائم رہے۔‘‘

افغان بستی میں مقیم محمد ایوب کہتے ہیں کہ اُن کی خواہش ہے کہ اُن کے آبائی وطن میں امن ہو اور وہ وہاں زندگی بسر کریں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’’اچھا ہے کہ امن ہو جائے۔ اپنی خاک اپنی مٹی پر زندگی گزاریں۔ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ خدارا آپس میں صلح کر لو امن کے لیے کوششیں کریں حتیٰ کہ پاکستان بھی کوشش کرے تو کچھ (بات آگے بڑھے گی)۔‘‘

عبدالحمید کہتے ہیں کہ جب اُنھوں نے عید کے موقع پر اپنے ملک جنگ بندی کی بات سنی تو پہلے تو اُنھیں یقین ہی نہیں آیا۔ اُن کے الفاظ میں، ’’الحمد اللہ، یہ جب ہم نے سنا ہے تو ہماری آنکھوں میں آنسو آئے۔ بڑی خوشی ہوئی کہ دو مسلمان بھائی آپس میں صلح کر رہے ہیں ۔۔۔۔ خوشی کی لہر دوڑ رہی ہے دل میں اللہ اسے سچ کر دے یہی تو ہماری آرزو ہے اور ہماری تمنا ہے۔‘‘

افغانستان میں جنگ بندی کے دوران طالبان کو ملک کے مختلف علاقوں میں سرکاری عہدیداروں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں سے گلے ملتے اور تصاویر بنواتے دیکھا گیا؛ جس پر، خاص طور پر سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر شیئر کیا گیا اور اس پر مثبت تبصرے بھی کیے گئے۔

لیکن، اس جنگ بندی کے دوران، افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرہار میں دو دھماکے بھی ہوئے جن میں درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔

ان بم حملوں میں سے ایک عید کے موقع پر طالبان کے اجتماع پر بھی کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان پر اس حملے سے دونوں جانب اعتماد کی فضا کو ٹھیس پہنچی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG