رسائی کے لنکس

افغانستان میں قیام امن اور بھارت کا کردار، تجزیہ کاروں کی آرا


فائل

سفیر ولیم مائیلم نے کہا ہے کہ ان کے نزدیک افغانستان میں قیام امن کیلئے بھارت کا کردار ’’مددگار ثابت ہوسکتا ہے‘‘۔ لیکن، اُن کا کہنا تھا کہ ’’کیا بھارت یہ کرادر ادا کرنا چاہے گا۔ اس بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا‘‘

پاکستان کیلئے امریکہ کے سابق سفیر ولیم مائیلم نے افغانستان میں قیام عمل کے لئے بھارت کے کردار پر شک کا اظہار کیا ہے، جبکہ ایک امریکی تھنک ٹینک ’اٹلانٹک کونسل‘ میں جنوبی ایشیا سینٹر کے ڈائریکٹر، بھارت گوپالاسوامی نے کہا ہے کہ افغانستان میں بھارت کا کردار نپا تلا ہے اور جب تک ایسا رہے گا تب تک وہ مؤثر رہے گا۔

سفیر ولیم مائیلم کا کہنا ہے کہ ان کے نزدیک افغانستان میں قیام امن کیلئے بھارت کا کردار ’’مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن، کیا بھارت یہ کرادر ادا کرنا چاہے گا۔ اس بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’یا پھر، بھارت افغانستان میں امن عمل سے پاکستان سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ میں پاکستان نواز نہیں ہوں۔ لیکن، میں صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ کچھ عرصے سے بھارتی لوگ شدید قوم پرست ہوگئے ہیں، مسٹر مودی اور اُن کی شدید قوم پرست حکومت، امن عمل میں مدد گار ثابت نہیں ہوئی۔‘‘

’اٹلانٹک کونسل‘ میں جنوبی ایشیا سینٹر کے ڈائریکٹر، بھارت گوپالاسوامی نے کہا ہے کہ بھارت کا جو کردار ابھی تک افغانستان میں رہا ہے وہ زیادہ تر ’ڈویلپمینٹل‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’جب تک وہ ’ریمِٹ‘ اور ’ارینج‘ میں رہے گا تب تک وہ ایک یقینی صورتحال پیدا کرے گا، اور وہ پوری طرح نپی تلی ہے۔ اب اس کے اوپر کیا ہوگا اور بھارت کیا کرے گا اور کیسے کرے گا؛ تو اس سے تھوڑی بے یقینی ہوگی۔ جب تک وہ کلیئر نہیں رہے گا تب تو بے یقینی رہے گی اور وہ بے یقینی کسی کیلئے اچھی نہیں ہے۔‘‘

پاکستان کے اس دعوے پر کہ اس نے اپنے قبائلی علاقوں سے دہشت گرد اور جہادی تنظیموں کا صفایا کر دیا ہے، ولیم مائلم کا کہنا تھا ’’پاکستان نے قبائلی علاقوں میں جہادی تنظیموں کی کمر تو توڑ دی ہے۔ لیکن، اُن جہادی تنظیموں کی نہیں، جنہیں وہ ’پراکسی‘ کے طور پر استعمال کرتا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہہ وہ نہیں ہیں جنہیں وہ پسند کرتے ہیں۔ جنہیں وہ پسند کرتے ہیں، انہیں تو ہاتھ بھی نہیں لگایا، جیسے کہ حقانی نیٹ ورک۔‘‘

گوپالا سوامی کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں سے دہشت گرد تنظیموں کا صفایا کرنے کے سوال کے جواب کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کس زاویے سے یہ سوال پوچھ رہے ہیں اور اس پر تجزیہ کار کی مختلف آرا ہو سکتی ہیں۔ لیکن، یہاں امریکہ میں ایک بات سے سب اتفاق کرتے ہیں۔

بقول اُن کے، ’’مگر، یہاں پر ایک عمومی اتفاقِ رائے ہے کہ پاکستان نے یہ کام پورا نہیں کیا؛ اور ابھی تک بہت کام باقی ہے۔۔۔۔ یہ ایک وسیع تر اتفاق رائے ہے یہاں کی تجزیہ کار برادری میں‘‘۔

سفیر ولیم مائلم نے پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے کہا کہ ’’اس بات پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی کہ خود پاکستان میں کیا ہو رہا ہے۔ اور جس چیز کی میں بات کر رہا ہوں وہ ہے پاکستان کے نظام حکومت میں ایک طرح سے فوج کی قوت میں اضافے کا۔ جس کےاثرات، میرے خیال میں، پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات پر مرتب ہونگے، اور مستقبل میں پاکستان کے رویے پر بھی‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’خارجہ پالیسی اور خاص کر افغانستان اور بھارت سے متعلق سیکیورٹی پالیسی کبھی سویلین حکومت کے ہاتھ میں نہیں رہی۔ اور ہمیں اس کا علم ہے۔ لیکن، گزشتہ چند ہفتوں سے، جب سے نواز شریف کو عہدے سے ہٹایا گیا ہے، تب سے، فوج اب واضح طور پر پوری طرح سے انچارج ہے۔ اور انہوں نے یہ سب واضح بھی کر دیا ہے کہ اب وہ زیادہ اختیار میں ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’وہ پردہ، جس کے پیچھے وہ عمومی طور پر رہتے تھے، اسے ہٹا دیا گیا ہے۔ اور باہر نکل کر انہوں نے کہا ہے کہ بنیادی طور پر ہم یہاں انچارج ہیں۔ اور سویلین کوئی معنی نہیں رکھتے۔‘‘

بقول اُن کے، ’’سو، ہم جانتے ہیں کہ فوج کا ’پراکسی‘ کے طور پر استعمال ہونے والی چند بلاواسطہ تنظیموں کے بارے میں اپنا ایک سخت موقف ہے؛ جیسا کہ حقانی نیٹ ورک۔ میرے خیال میں، پاکستان میں رونما ہونے والی یہ تبدیلیاں یہ اشارہ دیتی ہیں کہ شاید آئندہ چند برسوں تک امریکہ کے ساتھ تعلقات میں مشکل رہے گی‘‘۔

گوپالا سوامی کا کہنا تھا کہ ’’سول اور ملٹری میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ اور نہ ہی پاک امریکہ تعلقات کیلئے خوش آئند ہے۔ لیکن، یہ کوئی نئی بات بھی نہیں ہے۔ اور امریکہ کے پالیسی سازوں کو یہ بات ذہن میں رکھ کر اسی لحاظ سے اپنی پالیسی مرتب کرنا ہوگی‘‘۔

پاکستان میں طاقت کی کشمکش کے تناظر میں امریکہ کی افغان پالیسی پر گوپالا سوامی کا کہنا تھا کہ ’’یہ امریکہ کی افغان پالیسی کیلئے بلکل ٹھیک نہیں ہے؛ کیونکہ، ایک حساب سے ابھی یہ سوال ہے کہ ہم کس سے بات کریں اور کام کیسے ہوگا۔ تو اس طرح سے دیکھیں تو اس کیلئے بھی یہ پالیسی بے یقینی پیدا کرتی ہے۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے دورہ پاکستان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ پاک افغان تعلقات اور پاک بھارت تعلقات پر بات کرے گا۔ تاہم، وہ پاکستان کو ایک وسیع تر کردار ادا کرتے ہوئے بھی دیکھنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’ہم جتنے دفتر خارجہ کے عہدیداروں سے بات کرتے ہیں تو اس حساب سے مجھے لگ رہا ہے کہ امریکہ بھی چاہتا ہے کہ پاکستان کی شمولیت تھوڑی وسیع تر ہو۔‘‘

ریکس ٹلرسن کے دورہٴ بھارت کے حوالے سے، گوپالا سوامی کا کہنا تھا کہ ’’اگر بھارت سے کہا بھی گیا تو وہ افغانستان میں اپنی افواج نہیں بھیجے گا، کیونکہ اس کا اس حوالے سے بڑا ہی واضح موقف ہے۔ تاہم، امریکہ چاہتا ہے کہ بھارت جنوبی ایشیا اور چین کے ’ون بیلٹ ون روڈ‘ منصوبے کے حوالے سے بھی ایک وسیع تر کردار نبھائے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG