رسائی کے لنکس

امریکہ کی افغان پالیسی کے بارے میں، تجزیہ کار مائکل کوگلمین کا کہنا ہے کہ ’’یہ ضروری ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنی افغان حکمت عملی کے مقاصد واضح کرے، جو اوباما انتظامیہ نہیں کر پائی‘‘۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ ’’میرا نہیں خیال کہ فوجیوں کی تعداد میں اضافے سے کوئی فائدہ ہوگا‘‘

ڈانلڈ ٹرمپ وہ تیسرے امریکی صدر ہوں گے جو افغانستان میں امریکی فوج کی تعداد میں اضافہ کرنے والے ہیں۔ اس وقت، افغانستان میں تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار امریکی فوج موجود ہے اور توقع ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ان میں تقریباً چار ہزار کے اضافے کا اعلان کرے گی۔

واشنگٹن کے تحقیقی ادارے، ’ولسن سنٹر‘ میں ایشیا پروگرام کے ڈپٹی ڈائریکٹر، مائکل کوگلمین کہتے ہیں کہ جب 2010ء میں ایک لاکھ فوجی افغانستان میں تعینات تھے، تب جنگ ختم نہیں ہو سکی، تو چند ہزار کے اضافے سے کس طرح ہوگی۔

کوگلمین کے خیال میں حکومت مزید فوجی بھیج کر افغان سیکورٹی فورسز کو تربیت اور مدد فراہم کرنے کے علاوہ یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ امریکہ نے افغانستان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔

تاہم، کوگلمین کی نظر میں یہ ضروری ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنی افغان حکمت عملی کے مقاصد واضح کرے جو کہ اوباما انتظامیہ نہیں کر پائی۔

کوگلمین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا حل سفارت کاری میں ہے۔ لیکن، صدر ٹرمپ محکمہٴ خارجہ کے بجائے محکمہٴ دفاع پر زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔

مکمل گفتگو کے لیے، منسلک وڈیو رپورٹ دیکھئے:

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG