رسائی کے لنکس

افغانستان کو خون ریزی اور تباہی سے بچانے کے لیے ملک چھوڑا: اشرف غنی


فائل فوٹو

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے طالبان کی تازہ ترین پیش قدمی کے بعد اتوار کو ملک چھوڑ دیا ہے۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے فیس بک پر پشتو زبان میں اپنے ایک پیغام میں ملک چھوڑنے کی تصدیق کی اور کہا کہ "مجھے آج ایک بہت مشکل فیصلہ کرنا تھا۔ یا تو میں مسلح طالبان کا مقابلہ کرتا یا پھر ملک چھوڑ دیتا۔"

انہوں نے کہا کہ اگر میں ملک میں ٹہرتا تو لاتعداد لوگ مارے جاتے۔ 60 لاکھ کی آبادی کا شہر کابل تباہ ہو جاتا اور وہاں رہنے والوں کو ایک سانحے اور المیے کا سامنا کرنا پڑتا۔

اشرف غنی کا کہنا تھا کہ "طالبان کو فتح تلوار اور بندوق کے زور پر ہوئی ہے اور اب وہ عوام کی عزت، زندگیوں اور املاک کی سلامتی کے لیے جواب دہ ہیں۔ انہوں نے لوگوں کے دل نہیں جیتے۔ تاریخ میں کبھی کسی کو طاقت کے ذریعے قانونی جواز حاصل نہیں ہوا ہے۔"

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق افغان سیکیورٹی کونسل کے مشیر اور سابق صدر حامد کرزئی کے آفس کے ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ صدر اشرف غنی ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

اے پی کے مطابق حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا ہے کہ صدر غنی کے ہمراہ افغان قومی سلامتی کے مشیر محب اللہ محب بھی وطن چھوڑ چکے ہیں۔

تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ صدر غنی افغانستان سے کس ملک گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے وزارت داخلہ کے حکام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ اشرف غنی کابل سے تاجکستان چلے گئے ہیں۔

طالبان کے ذرائع نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ کابل میں مذاکرات کے بعد صدر غنی نے استعفیٰ دے دیا ہے جسے منظور کر لیا گیا ہے۔

طالبان نے مزید بتایا ہے کہ افغان رہنما اور عمائدین قطر کے دارالحکومت دوحہ جائیں گے جہاں طالبان کو اقتدار کی منتقلی کا عمل طے پائے گا۔

واضح رہے کہ افغان صدارتی محل کی جانب سے اب تک فوری طور پر اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

اس سے قبل افغانستان کے قائم مقام وزیرِ داخلہ عبدالستار مرزکوال نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ کابل میں پرامن انتقالِ اقتدار کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں اور ایک معاہدے کے تحت عبوری حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

دوسری جانب پاکستان کے نمائندۂ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ افغانستان کے سیاسی رہنماؤں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کا وفد اسلام آباد پہنچا ہے۔

محمد صادق کے مطابق وفد میں افغان پارلیمنٹ کے اسپیکر میر رحمان رحمانی، صلاح الدین ربانی، محمد یونس قانونی، استاد محمد کریم خلیلی، احمد ضیا مسعود، احمد ولی مسعود، عبدالطیف پیدرم اور خالد نور شامل ہیں۔

پاکستان کے نمائندۂ خصوصی برائے افغانستان نے مزید کہا ہے کہ افغان سیاسی رہنماؤں کے دورے کے دوران باہمی مفادات کے معاملات پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

اس خبر میں شامل بعض معلومات خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' اور 'رائٹرز' سے لی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG