رسائی کے لنکس

طالبان جنگ بند کر کے مذاکرات کی طرف آئیں: سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ


اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتریس۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتریس نے جمعے کے روز طالبان سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنا فوجی حملہ بند کر کے افغانستان کے عوام کے لئے خیرسگالی کے اظہار کے طور پر مذاکرات کریں۔

انہوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا، "جنگ کی راہ پر چلنے والوں کے لئے بین الاقوامی برادری کا پیغام واضح ہونا چاہئیے کہ فوجی طاقت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ ایک ناکام منصوبہ ہے۔ یہ محض خانہ جنگی کو طول دے گا یا افغانستان کو الگ تھلگ کر دے گا۔"

اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ ایسے میں جب طالبان نے افغانستان کے نصف صوبوں پر قبضہ کر لیا ہے اور کابل پر نظریں لگائے بیٹھے ہیں، ملک ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے۔

انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ عام شہریوں کے تحفظ کا زیادہ خیال کریں، اور خبردار کیا کہ شہری تنازعہ جاری رہنے کا مطلب ہے مسلسل خونریزی، جس کی سب سے زیادہ قیمت عام شہریوں کو ادا کرنی پڑتی ہے۔

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ گزشتہ ماہ کے بے دریغ حملوں میں ایک ہزار کے قریب سویلین ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں خاص طور پر ہلمند، قندھار اور ہرات صوبوں میں اور لڑائی سے ڈھائی لاکھ کے لگ بھگ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔

گتریس نے طالبان نمائندوں اور افغان حکومت کے درمیان دوحہ میں بامعنی بات چیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغان قیادت اور طالبان کے مابین مذاکرات کے ذریعے کوئی سیاسی سمجھوتہ ہی امن کو یقینی بنا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات سے بے حد پریشانی ہوئی ہے کہ طالبان اپنے کنٹرول والے علاقوں میں خواتین اور صحافیوں کو نشانہ بناتے ہوئے انسانی حقوق پر پابندیاں لگا رہے ہیں۔

انتونیو گتریس نے کہا کہ ''یہ بات خاص طور پر خوفزدہ اور غمزدہ کر دینے والی ہے کہ افغان لڑکیوں اور خواتین کے وہ حقوق صلب کئے جا رہے ہیں جو انہوں نے بڑی محنت کے بعد حاصل کئے تھے۔

اس سے پہلے جمعے ہی کو گتریس کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ افغانستان میں تیزی سے ابتر ہوتی صورتِ حال کے باوجود اقوامِ متحدہ کا اس ملک سے انخلاء کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG