رسائی کے لنکس

صدر غنی کی پاکستانی سفارتی اہلکار کے قتل کی مذمت


افغان صدر اشرف غنی (فائل فوٹو)

پاکستان نے اپنے سفارتی اہلکار کی ہلاکت پر افغانستان سے شدید احتجاج کرتے ہوئے اس واقعے کی مفصل تحقیقات کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے سفارتی عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے جلال آباد میں پاکستانی قونصل خانے کے ایک سفارتی اہلکار کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے افغان سکیورٹی اداروں کو اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

رانا نیئر اقبال کو پیر کو نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا جب وہ اپنے گھر کے قریب ایک دکان پر کھڑے تھے۔

بدھ کو جاری ایک بیان میں صدر غنی کا کہنا تھا کہ انھوں نے سکیورٹی اداروں سے کہا ہے کہ وہ اس حملے کے ذمہ داروں کا بھی پتا چلائیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت غیر ملکی سفارتی عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ذمہ دار ہے اور سکیورٹی اداروں کو اس امر کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔

نیئر اقبال کی میت منگل کو پاکستان کے حوالے کی گئی تھی جسے بعد ازاں اسلام آباد کے ایک قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا۔

پاکستان نے اپنے سفارتی اہلکار کی ہلاکت پر افغانستان سے شدید احتجاج کرتے ہوئے اس واقعے کی مفصل تحقیقات کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے سفارتی عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔

دریں اثنا افغانستان کے مشیر قومی سلامتی حنیف اتمار نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ انھوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب ناصر خان جنجوعہ سے بات کی اور سفارتی اہلکار کی ہلاکت پر ان سے اظہار تعزیت کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد دونوں ملکوں کے مشترکہ دشمن ہیں لہذا ان کے خاتمے کے لیے مشترکہ، مربوط اور حقیقت پر مبنی کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی ماہ سے کشیدگی کا شکار ہیں اور دونوں ملک ایک دوسرے پر اپنی اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے دینے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

پاکستان اس سے پہلے بھی افغانستان میں اپنے سفارتی عملے کی سلامتی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کے تحفظ کو یقینی بنانے کے مطالبات کر چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG