رسائی کے لنکس

افغانستان، پاکستانی سفارت کاروں کے تحفظ کو یقینی بنائے


افغانستان کے شہر جلال آباد میں قتل کیے گئے پاکستانی قونصل خانے کے سفارتی عہدیدار رانا نیئر اقبال کی میت منگل کو اسلام آباد پہنچا دی گئی جہاں بعد ازاں اُن کی تدفین ایک مقامی قبرستان میں کی گئی۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق 52 سالہ رانا نیئر اقبال کو پیر کو جلال آباد میں اُن کے گھر کے قریب ایک دکان پر دو نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

حکام کے مطابق دونوں حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے جو رانا نئیر کو نشانہ بنانے کے بعد فرار ہو گئے۔

رانا نئیر اقبال کی نمازہ جنازہ میں شرکت کے بعد وزارت خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے صحافیوں سے مختصر گفتگو میں کہا کہ پاکستانی سفارت کار کو پانچ گولیاں لگیں۔

’’سیکرٹری خارجہ نے کل رات کو ہی افغان ناظم الامور کو طلب کیا تھا اور ان سے بڑی شدید مذمت کی گئی اس واقعے کی اور ان سے درخواست کی گئی کہ زیادہ سکیورٹی دی جائے وہاں پر ہمارے سفارت کاروں کو تاکہ اس قسم کا واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔‘‘

پاکستان کے صدر ممنون حسین اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنے الگ پیغامات میں پاکستانی سفارت کار کو قتل کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔

جب کہ پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے افغان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس حملے میں ملوث افراد کو کو پکڑنے کے لیے فوری اقدامات کے ساتھ ساتھ افغانستان میں پاکستانی سفارت مشنز اور اُن کے عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔

پاکستان کی سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے اسلام آباد میں افغانستان کے سفارت خانے کے ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کر رانا نئیر اقبال کے قتل پر شدید احتجاج کیا۔

تہمینہ جنجوعہ نے بھی مطالبہ کیا کہ افغانستان اپنے ہاں تعینات پاکستانی سفارت عملے کو ’’فول پروف‘‘ سکیورٹی فراہم کرے۔

پاکستان میں تعینات افغان سفیر حضرت عمر زخیلوال نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر ایک پیغام میں پاکستانی سفارت کار کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ افغان عہدیداروں سے کہا گیا کہ وہ اس ضمن میں ہر ممکن مدد فراہم کریں۔

پاکستان کے سابق سفارت کار ایاز وزیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ سفارتی عملے میں شامل عہدیدار کا قتل دوطرفہ تعلقات کو متاثر کر سکتا ہے۔

’’باعث تشویش تو اس لیے ہے کہ ایک اہم آدمی کو مار دیا گیا ۔۔۔ اس کے منفی اثرات آئیں گے ہمارے اور افغانستان کی حکومت کے تعلقات پر۔۔۔ کیونکہ بنیادی ذمہ داری تو افغان حکومت کی ہے سفارت کاروں، سفارتی عملے اور سفارت خانوں کے تحفظ کی۔۔۔ لیکن مجھے اُمید ہے کہ افغان حکومت مجرموں کو جلد پکڑ لے گی اور جو حقیقت ہے وہ سامنے آ جائے گی۔‘‘

اُن کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے حکومتی عہدیداروں کو اس معاملے پر بات چیت اور تعاون کرنا چاہیئے۔

’’میں سمجھتا ہوں کہ افغان اور پاکستانی حکومتوں کے جو بڑے لوگ ہیں، وزیر اعظم اور صدر صاحباں وہ بات کر لیں، مل لیں ان کی سکیورٹی ایجنسیاں ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ کر لیں کیونکہ یہ دونوں ملک کتنے بھی خواہ ایک دوسرے سے دور ہو جائیں ان کے لوگ ایک دوسرے سے دور نہیں ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے اواخر میں پشاور سے نامعلوم افراد نے افغانستان کے صوبہ کنڑ کے نائب گورنر محمد نبی احمدی کو اغوا کر لیا تھا۔

وہ علاج کے لیے پاکستان آئے ہوئے تھے۔

گزشتہ ہفتے پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان محمد فیصل نے کہا تھا کہ افغانستان کے ایک صوبے کے نائب گورنر اپنے ذاتی دورے پر پاکستان آئے ہوئے تھے اور اُن کی آمد سے متعلق پہلے سے پاکستان کو اطلاع نہیں دی گئی تھی۔

ترجمان محمد فیصل کے مطابق افغانستان کے نائب افغان گورنر کی تلاش کے لیے تمام کوششیں کی جا رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG