رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان رہنما جہاں چاہیں بات چیت پر تیار ہیں: غنی


غنی نے ’نیو یارک ٹائمز‘ میں تحریر کیا ہے کہ وہ اخونزادہ کے ساتھ مکالمے کے کوشاں ہیں، تاکہ افغان امن ریلی کے شرکا کے مطالبات مانے جائیں، جنھوں نے اس ماہ جنوبی صوبہٴ ہیلمند سے کابل تک کا 600 کلومیٹر سے زائد طویل فاصلہ طے کیا

افغان صدر اشرف غنی نے بدھ کے روز اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ طالبان راہنما، مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کے ساتھ، جہاں کہیں بھی چاہیں، براہ راست امن بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

اُنھوں نے یہ بات بدھ کے روز ’نیو یارک ٹائمز‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہی ہے۔ غنی نے کہا کہ عید الفطر کے موقعے پر تین روز کے لیے اُن کی حکومت اور طالبان نے علیحدہ غیر معمولی جنگ بندی کی۔

باغیوں نے عید پر جنگ بندی کے معاہدے میں توسیع سے انکار کیا۔ لیکن، افغان حکومت نے یکطرفہ طور پر ہفتے بھر کی جنگ بندی کو بڑھا کر 10 روز تک جاری رکھی۔

غنی نے تحریر کیا ہے کہ وہ اخونزادہ کے ساتھ مکالمے کے کوشاں ہیں، تاکہ افغان امن ریلی کے شرکا کے مطالبات مانے جائیں، جنھوں نے اس ماہ جنوبی صوبہٴ ہیلمند سے کابل تک کا 600 کلومیٹر سے زائد طویل فاصلہ طے کیا۔ وہ تمام فریق سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ ملک میں عشروں سے جاری تنازع بند کریں۔

غنی نے کہا کہ ’’میں نے اُن کے مطالبات مانے، سرکاری جنگ بندی کو 10 سے زیادہ دِنوں تک جاری رکھا اور یہ اعلان کیا کہ میں طالبان کے راہنما مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کے ساتھ، جہاں کہیں وہ چاہیں، مذاکرات کے لیے تیار ہوں‘‘۔

افغان راہنما نے باغی قیادت پر زور دیا کہ وہ مطالبات منظور کریں، جنگ بندی میں توسیع کریں اور ’’خلوص کے ساتھ‘‘ امن مذاکرات کے مقام طے کرنے پر اتفاق کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG