رسائی کے لنکس

logo-print

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مفاہمت کے اشارے


امریکی وزیر دفاع جم میٹس۔ فائل فوٹو

امریکی وزیر دفاع جم میٹس کا کہنا ہے کہ افغانستان میں حکومت اور طالبان کے درمیان 17 برس سے جاری لڑائی کے بعد دونوں فریقین میں جامع مزاکرات شروع ہونے کے حوصلہ افزا اشارے ملے ہیں۔

جم میٹس نے اتوار کے روز بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں افغانستان کے صدر اشرف غنی کی طرف سے طالبان کو تین روزہ جنگ بندی کی پیشکش پر طالبان نے رضامندی ظاہر کی جو حوصلہ افزا ہے۔

اس سمجھوتے کے بعد رمضان کے مہینے کے اختتام پر عید کی تعطیلات کے دوران تین روز تک لڑائی بند رہی۔ تین دن کی یہ مدت گزرنے کے بعد افغانستان کی حکومت نے جنگ بندی میں یک طرفہ طور پر توسیع کا اعلان کر دیا۔ تاہم طالبان نے توسیع سے انکار کرتے ہوئے 17 جون سے حملے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کر دیا ۔

امریکی وزیر دفاع میٹس کا کہنا ہے کہ اگرچہ طالبان نے جنگ بندی میں توسیع کرنے سے انکار کر دیا تھا، اُن کیلئے یہ بات حوصلہ افزا تھی کہ جنگ بندی کے دوران طالبان نے افغانستان کے سرکاری فوجیوں کے ساتھ ملکر کر روزہ افطار کیا اور اکٹھے عید منائی۔

جنگ بندی کے دوران طالبان افغانستان کے مختلف شہروں میں آزادنہ حرکت کرتے رہے اور لوگوں میں گھل مل گئے۔ مقامی شہریوں نے اُن کے اس اقدام کو سراہا۔

وزیر دفاع جم میٹس نے اپنے ایشیائی دورے پر روانگی سے قبل الاسکا کے ایلیسن ایئر فورس بیس پر رپورٹروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغان صدر نے جنگ بندی کی پیشکش کی اور طالبان نے اسے قبول کیا۔ یوں افہام و تفہیم کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ اب آئیندہ آنے والے دنوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ اس حوالے سے مزید پیش رفت کب ہوتی ہے۔

جم میٹس چین، جنوبی کوریا اور جاپان کے دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG