رسائی کے لنکس

افغان صدر نے طالبان قیدیوں کی رہائی کی مشروط منظوری دے دی


اشرف غنی کی جانب سے طالبان قیدیوں کے رہائی کے حکم نامے پر دستخط کے بعد سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اس ہفتے کم از کم ایک ہزار قیدیوں کی رہائی متوقع ہے۔ (فائل فوٹو)

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے طالبان قیدیوں کو جیلوں سے رہا کرنے کے حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔ جس کے تحت طالبان قیدیوں کو مختلف مراحل میں رہا کیا جائے گا۔

افغان صدر کے ترجمان صادق صدیقی نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ ’’صدر اشرف غنی نے ایک صدارتی فرمان پر دستخط کیے ہیں جس سے طالبان قیدیوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔ یہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کے آغاز کے لیے تسلیم شدہ طریقہ کار ہے۔‘‘

ترجمان نے کہا کہ اس بارے میں تفصیل بدھ کو جاری کی جائے گی۔

اس سے قبل سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اس ہفتے کم از کم ایک ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی متوقع ہے۔ طالبان چاہتے ہیں کہ افغان حکومت اُن کے پانچ ہزار عسکریت پسندوں کو رہا کرے۔

یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو قطر میں طے پانے والے امن معاہدے میں قیدیوں کی رہائی کا ذکر موجود تھا۔

معاہدے کے تحت افغان حکومت 5000 طالبان قیدیوں کو رہا کرے گی جب کہ طالبان اپنی قید میں موجود ایک ہزار افغان قیدیوں کو رہا کرنے کے پابند ہیں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے جس حکم نامے پر دستخط کیے ہیں، اُس کے مطابق قیدیوں کی رہائی کا عمل آئندہ چار روز کے دوران شروع ہو گا۔ ابتدائی طور پر 1500 قیدیوں کو 15 دن کے اندر رہائی ملے گی۔

صدارتی حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات اور قیدیوں کی رہائی کا عمل ساتھ ساتھ جاری رہے گا۔ تاہم طالبان کو تشدد میں کمی کے وعدے پر قائم رہنا ہو گا۔

یاد رہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے طالبان قیدیوں کی رہائی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ تاہم امریکی مداخلت کے بعد منگل کو انہوں نے قیدیوں کی رہائی کے حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔

امن معاہدے کے تحت طالبان اور افغان سیاسی رہنماؤں کے درمیان بین الافغان مذاکرات بھی ہونا ہیں۔

وائس آف امریکہ کی افغان سروس کے مطابق صدر اشرف غنی کی حکومت نے طالبان سے مذاکرات کے لیے ایک وفد کے لیے ناموں کو حتمی شکل دے دی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG