رسائی کے لنکس

logo-print

افغان صدارتی مشیر سی آئی اے کے تنخواہ دار: نیویارک ٹائمز


اخبار ‘نیو یارک ٹائمز ’ کا کہنا ہے کہ ایک افغان صدارتی مشیر جِن کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات جاری ہیں، وہ امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے تنخواہ دار ہیں۔

رپورٹ میں نامعلوم افغان اور امریکی عہدے داروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پتا چلتا ہے کہ افغان قومی سلامتی کونسل کے عہدے دار محمد ضیا صالحی کئی سالوں سےسی آئی اے سے رقوم حاصل کرتے رہے ہیں۔

ٹائمز کا کہنا ہے کہ ابھی یہ بات واضح نہیں ہے کہ صالحی کو اطلاعات کی بنیاد پر یا پھر افغان صدر حامد کرزئی کی انتظامیہ میں امریکی سوچ کو آگے بڑھانے، یا دونوں کام کے عوض ادائگی ہوتی ہے۔ صالحی نے اِن الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ صالحی کے سی آئی اے کے ساتھ مبینہ تعلقات افغانستان سےمتعلق امریکی پالیسی میں گہرے تضاد کی نشاندہی کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ صدر کرزئی سے مطالبہ کرتا ہے کہ حکومتی بدعنوانی کو ختم کیا جائے جب کہ سی آئی اے اُن عہدے داروں کو مبینہ طورپرمراعات دیتا ہےجن پربدعنوانی کا شبہ ہے۔

افغان پولیس نے گذشتہ ماہ اُنھیں گرفتار کیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُن کی گفتگو ریکارڈ ہوئی ہےجس میں وہ رشوت کے عوض ایک کمپنی کے خلاف ہونے والی امریکی تحقیقات کو رکوانے کا کہہ رہے ہیں جِس کے لیے شبہ ہے کہ وہ وہ افغان رہنماؤں، منشیات کے اسمگلر اور باغیوں کو رقوم فراہم کرتی ہے۔

صدر کرزئی نے اِس معاملے میں مداخلت کرکے صالحی کو رہا کرایا، جو سات گھنٹوں تک جیل میں پڑے رہے۔

دریں اثناء ، افغان عہدے داروں کا کہنا ہے کہ شمالی صوبہٴ قندوز میں ایک چھاپے کے دوران طالبان باغیوں نے آٹھ پولیس عہدے داروں کو ہلاک کردیا ہے۔

عہدے داروں نے بتایا ہے کہ جمعرات کو علی الصبح باغیوں نے قندوز شہر کی ایک پولیس چوکی پر دھاوا بول دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ حملے میں ایک پولیس اہل کار بچ گیا لیکن وہ زخمی حالت میں ہے۔

جوں جوں طالبان کا اثربڑھ رہا ہے، شمالی صوبے میں افغان اور بین الاقوامی افواج پرہونے والے حملوں میں اضافہ آتا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG