رسائی کے لنکس

امریکہ میں پناہ گزینوں کی زندگی کچھ آسان نہیں


افغان پناہ گزین دولتی اپنے فوڈ ٹرک کے ساتھ۔

اپنی جان بچانے کے لیے محمد معشوق دولتی نے اپنا وطن أفغانستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا ۔ چار سال وہ قبل اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ تارکین وطن کے ایک خصوصي ویزے پر امریکہ آئے۔

امریکہ میں جب کسی بھی ملک سے کوئی پناہ گزین آتے ہیں تو انہیں مکان کے کرائے ، کھانے پینے اور روز مرہ کے دوسرے اخراجات کے لیے ایک مرتبہ کے لیے نقد رقم ملتی ہے۔ ایک نئے ملک میں رقم ختم ہونے سے پہلے فوری طور پر ملازمت تلاش کرنا کسی بھی پناہ گزین کے لیے ایک دشوار کام ہو سکتا ہے ۔ ایک افغان پناہ گزین نے چھوٹی موٹی ملازمتیں کرتے کرتے آخر کار ایک فوڈ ٹرک چلانے کا راستہ اختیار کیا ہے۔

ٕمحمد معشوق دولتی کہتے ہیں کہ میرا بزنس اچھا چل رہا ہے۔ خاص طور پر دوپہر کے وقت تو دفتروں سے بہت سے لوگ لنچ خریدنے آتے ہیں۔

دولتی روانی سے انگریزی بول سکتے ہیں ۔ یہ ان کے لیے کوئی زیادہ مشکل کام نہیں ہے ۔کیونکہ وہ أفغانستان میں انٹر نیشنل فورسز کے لیے ایک مترجم کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ میری اور میرے خاندان کی زندگی طالبان، القاعدہ اور حقانی نیٹ ورک جیسے برے لوگوں کی وجہ سے بہت خطرے میں تھی۔ أفغانستان میں بہت سے مترجم مارے گئے تھے ۔ انہیں اغوا کیا گیا اور پھر ہلاک کر دیا گیا۔ بعض صورتوں میں تو کئی ایک کے سر بھی قلم کر دیے گئے ۔مجھے بھی ان لوگوں کی جانب سے دھمکیاں ملتی رہتی تھیں۔

اپنی جان بچانے کے لیے محمد معشوق دولتی نے اپنا وطن چھوڑنے کا فیصلہ کیا ۔ وہ چار سال قبل اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ تارکین وطن کے ایک خصوصي ویزے پر امریکہ آئے ۔ وہ کہتے ہیں کہ انٹر نیشنل فورسز، خاص طور پر امریکی فورسز کے ساتھ 8سال کی سروس کے بعد انہیں بہت زیادہ توقعات تھیں۔

انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ امریکیوں نے میری اور میرے خاندان کی زندگیاں بچانے کے لیے امریکہ کا ویزہ دیا ۔ لیکن انہوں نے ہماری کوئی زیادہ مدد نہیں کی ۔ خاص طور پر ملازمت کے لحاظ سے تو کچھ بھی نہیں کیا۔

وہ کہتے ہیں کہ انہیں کچھ ہی عرصے کے بعد یہ إحساس ہوگیا کہ صرف انگریزی بول چال کی مہارت اور مترجم کے طور پر تجربہ ان کی کچھ زیادہ مدد نہیں کرسکتا اور انہیں امریکہ میں زندہ رہنے کے لیے اپنے شعبے سے ہٹ کر نوکری ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آپ نہیں جانتے کہ کسی ملازمت کی تلاش کے لیے کہاں جانا ہے یا اس کے لیے درخواست دینے کا طریقہ کیا ہے۔ مجھے کچھ جگہوں مثلاً ریستورانوں کچھ دوسری جگہوں پر کسی ملازمت کی درخواست دینے اور ان سے بات چیت کرنے کے لیے پیدل چل جانا پڑتا تھا ۔ اور مجھے اور میرے کچھ دوستوں کو اپنی پہلی ملازمت تلاش کرنے میں لگ بھگ چھ مہینے تک لگ گئے۔

دولتی کو امریکہ میں پہلی ملازمت ایک چکن ریستوران میں ملی۔ ان کا کام صفائی اور خوراک کی تیاری کی تھا۔

انہوں نے کہا کہ شروع شروع میں مجھے یہ کام بہت مشکل لگا کیوں کہ میں اس قسم کے کام کا بالکل عادی نہیں تھا ۔ اور پھر مجھے بہت محنت کرنا پڑی اور پھر وقت گذرنے کے ساتھ میں کیشیئر اور پھر ایک باورچی بن گیا۔

دولتی نے اپنے خاندان کی کفالت کے لیے ایک وقت میں دو نوکریاں بھی کیں۔ لیکن پھر انہیں واشنگٹن میں ایک فوڈ ٹرک مل گیا جسے ایک ایرانی پناہ گزین چلا رہا تھا۔ وہ تین سال سے اکٹھے کام کر رہے ہیں ۔ان کا کاروبار بہت اچھا چل رہا ہے اور ان کے بہت سے مستقل گاہک ہیں۔ ایسے ہی ایک مستقل گاہک ٹام ہرشین سام ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ مجھے ایرانی اورافغان کھانے بہت پسند ہیں۔ یہ بہت مزیدار ہوتے ہیں۔ میرا تجربہ ہے کہ پناہ گزین بہت محنتی ہوتے ہیں اور اپنے نئے وطن سے محبت کرنے والے شہری بن جاتے ہیں۔ پناہ گزین امریکہ کا وہ حصہ ہیں جو اسے عظیم بناتا ہے۔

دولتی نے اپنا وہ خواب نہیں چھوڑا جسے دیکھتے ہوئے وہ امریکہ آئے تھے وہ کہتے ہیں کہ میں کوئی ایسی ملازمت کرنا چاہتا ہوں جہاں دفتر کا کام ہو۔ اس کے لیے میں اپنی تعلیم پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہوں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ میں فوڈ ٹرک کا بزنس جاری رکھنا رکھنا چاہوں گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG