رسائی کے لنکس

logo-print

رواں سال ایک لاکھ سے زائد افغان پناہ گزین پاکستان سے واپس گئے


رواں ہفتے ہی وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس مدت میں مزید توسیع کا فیصلہ کرتے ہوئے اب اسے مارچ 2017 تک بڑھا دیا گیا ہے۔

پاکستان سے رضاکارانہ طور پر وطن واپس جانے والے افغان پناہ گزینوں کی تعداد میں رواں سال جولائی سے غیر معمولی تیزی دیکھی گئی۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک ایک لاکھ 10 ہزار سے زائد افغان مہاجرین پاکستان سے اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔

واپسی کے عمل میں تیزی کی ایک وجہ یہ بھی تھی پاکستان نے افغان مہاجرین کے قیام کی مدت 31 دسمبر 2016 تک مقرر کر رکھی تھی۔

لیکن رواں ہفتے ہی وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں اس مدت میں مزید توسیع کا فیصلہ کرتے ہوئے اب اسے مارچ 2017 تک بڑھا دیا گیا ہے۔

افغان مہاجرین کے نمائندوں اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یعنی ’یو این ایچ سی‘ نے حکومت پاکستان کے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی ترجمان دنیا اسلم خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ لگ بھگ 60 ہزار افغان مہاجرین تو صرف اگست کے مہینے میں اپنے ملک واپس گئے۔

’’وطن واپسی کے اس عمل میں جو تیزی آئی تھی وہ جولائی کے مہینے سے شروع ہوئی تھی اور آج دن تک جاری ہے اور پانچ ستمبر تک ہم نے ایک لاکھ گیارہ ہزار مہاجرین کی وطن واپسی کے عمل کو پراسس کیا تھا جو کہ 2010ء کے بعد سب سے زیادہ نمبر ہے، رضا کارانہ طور پر وطن واپس جانے والے افغانوں کا۔۔۔ اس میں سب سے زیادہ تیزی اگست کے مہینے میں آئی تھی جس میں تقریباً میرا خیال ہے ساٹھ ہزار کے قریب جو لوگ ہیں وہ صرف اگست کے مہینے میں یو این ایچ سی آر کے وطن واپسی پروگرام کے تحت افغانستان واپس گئے ہیں۔‘‘

پاکستان میں تقریباً 15 لاکھ افغان باشندے قانونی طریقے سے بطور پناہ گزین رہ رہے ہیں جب کہ اتنی ہی تعداد میں افغان شہری بغیر اندراج کے ملک کے مختلف علاقوں میں مقیم ہیں جن کے خلاف آئے روز قانون نافذ کرنے والے ادارے کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔

تاہم پاکستانی حکومت کی طرف سے یہ واضح کیا گیا کہ بطور ایک پناہ گزین کے رہنے والے کسی افغان کے ساتھ ناروا سلوک نہیں برتا جائے گا۔

رواں ماہ ہی افغان پناہ گزینوں کے عمائدین نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ افغانستان میں حالات سازگار نہیں لہذا انھیں وطن واپس جانے پر مجبور نہ کیا جائے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق حال ہی میں ’یو این ایچ سی‘ کی طرف سے وطن واپس جانے والے افغان پناہ گزینوں کو فراہم کی جانے والی نقد رقم بھی بڑھا دی گئی ہے۔

’یو این ایچ سی آر‘ کے مطابق پہلے واپس جانے والے افغان پناہ گزینوں کو 200 ڈالر فی کس ادا کیا جاتا تھا لیکن اب یہ رقم بڑھا کر 400 ڈالر فی کس کر دی گئی ہے۔

مہاجرین سے متعلق عالمی ادارے کی ترجمان کے مطابق نقد امدادی رقم بڑھانے سے بھی رضا کارانہ طور پر وطن واپس جانے والے افغان پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

XS
SM
MD
LG