رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: پانچ سال سے یرغمال امریکی فوجی رہا


امریکی حکام کے مطابق سارجنٹ برگڈہل کے بدلے طالبان کے مطالبے پر کیوبا میں قائم گوانتانامو کے امریکی فوجی اڈے سے پانچ قیدیوں کو رہا کیا جارہا ہے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں پانچ سال قبل طالبان کے ہاتھوں اغوا ہونے والے امریکی فوجی اہلکار بوو برگڈہل بالآخر رہا ہوگئے ہیں۔

امریکی حکومت کے بعض عہدیداران نے ہفتے کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ فوجی کی رہائی کے لیے افغان طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں جن میں قطر کی حکومت نے ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق سارجنٹ برگڈ ہل کے بدلے طالبان کے مطالبے پر کیوبا میں قائم گوانتانامو کے فوجی اڈے سے پانچ قیدیوں کو رہا کیا جارہا ہے۔

حکام کے مطابق ان قیدیوں کو قطر کی حکومت کے حوالے کیا جائے گا۔

سارجنٹ برگڈہل کی رہائی کا اعلان ہفتے کو واشنگٹن میں امریکہ کے صدر براک اوباما کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کیا گیا۔

بیان میں کہاگیا ہے کہ برگڈہل کے والدین کو بھی ان کی رہائی کی خوش خبری دیدی گئی ہے جنہوں نے "پانچ سال طویل جدائی کو ہمت اور حوصلے سے برداشت کیا"۔

صدر اوباما نے اپنے بیان میں فوجی کی رہائی ممکن بنانے میں قطر اور افغانستان کی حکومتوں کا شکریہ بھی ادا کیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق برگڈہل کو افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے حوالے کردیا گیا ہے اور ان کی صحت بہتر ہے۔ حکام کے مطابق فوجی اہلکار کا طبی معائنہ کیا جارہا ہے جس کے بعد انہیں جلد امریکہ روانہ کردیا جائے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق طالبان جنگجووں نے شمالی افغانستان میں مقامی وقت کے مطابق ہفتے کی شام چھ بجے مغوی سارجنٹ کو امریکی فوجی دستے کے حوالے کیا۔

سارجنٹ برگڈہل کو طالبان جنگجووں نے 30 جون 2009ء کو شمالی افغانستان میں ایک کارروائی کے دوران یرغمال بنالیا تھا۔

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران میں طالبان نے مغوی فوجی اہلکار کی کئی ویڈیوز بھی جاری کی تھیں جس سے یہ پتا چلتا رہا تھا کہ وہ حیات اور بخیریت ہیں۔

سارجنٹ کی رہائی کے لیے طالبان اور امریکی حکومت کے درمیان بلواسطہ مذاکرات کا سلسلہ کئی برسوں سے جاری تھا جس میں بار بار تعطل آنے کے باعث مغوی اہلکار کی رہائی تاخیر کا شکار ہوئے جارہی تھی۔

امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ مغوی فوجی کی رہائی کے لیے طالبان کے ساتھ کبھی بھی براہِ راست مذاکرات نہیں کیے گئے بلکہ تمام تر بات چیت قطر کی حکومت کے توسط سے ہوئی۔
XS
SM
MD
LG