رسائی کے لنکس

logo-print

غیر ملکی فورسز کی موجودگی میں امن مذاكرات بے معنی ہیں، طالبان


طالبان کا اصرار ہے کہ تمام غیرملکی فوجیں افغانستان سے نکل جائیں اور یہ فیصلہ أفغان عوام پر چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ اپنے ملک پر کس قسم کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔

طالبان نے اقوام متحدہ کی جانب سے أفغان حکومت کے ساتھ امن مذاكرات میں حصہ لینے کی تازہ ترین اپیل مسترد کر دی ہے اور کہا کہ اگر عالمی ادارہ حقیقت میں 15 سالہ جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے تو وہ اس کی بجائے أفغانستان پر سے امریکی قیادت میں غیر ملکی فوجی قبضہ چھڑانے کے لیے کام کرے۔

طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے جمعے کے روز وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جنگ آزادی کے لیے ہے اور جب تک قابض أفواج أفغانستان میں موجود ہیں، امن اور مفاہمت کے بارے میں کوئی بھی بات چیت بے معنی ہے۔

وہ اس ہفتے کے شروع میں اقوام متحدہ کے أفغانستان کے لیے مشن یعنی یواین اے ایم اے کے سربراہ تا دامیچی یاماموتو کی أفغان امن مذاكرات سے متعلق اپیل پر اپنے در عمل کا اظہار کر رہے تھے۔

نیویارک میں پیر کے روز سلامتی کونسل میں اپنی سہ ماہی بریفنگ میں یاماموتو نے طالبان پر زور دیا تھا کہ وہ پیشگی شرائط کے بغیر أفغان حکومت کے ساتھ براہ رأست مذاكرات میں حصہ لیں تاکہ ملک کو مزید خون خرابے سے بچایا جا سکے۔

تاہم طالبان کے ترجمان نے إصرار کیا کہ أفغان مسئلے کے حل میں دلچسپی رکھنے والے تمام فریقوں کو أفغانستان سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا پر زور دینا چاہیے اور یہ فیصلہ أفغان عوام پر چھوڑ دینا چاہیے کہ وہ اپنے ملک پر کس قسم کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔

طالبان کا کہنا ہے صدر اشرف غنی کی قیادت میں قائم قومی حکومت بااختیار حکومت نہیں ہے اور وہ مبینہ طور پر امریکی ہدایات کے تحت کام کرتی ہے۔

حالیہ دنوں میں اسلامی شورش پسندوں کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکی انتظامیہ أفغان جنگ کا کوئی حل ڈھونڈنے کے لیے طالبان سے براہ راست بات چیت کرے۔

واشنگٹن نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا تھا اور أفغان قیادت میں مفاہمت کے عمل پر زور دیا تھا۔

2016 میں أفغان جنگ کے دوران جانی نقصان میں اضافہ ہوا ہے اور اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس سال لڑائیوں میں 3000 ہزار سے زیادہ عام شہری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG