رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ طالبان مذاکرات: کیا عبوری حکومت پر اتفاق ہو سکتا ہے؟


متحدہ عرب امارات میں پاکستان اور سعودی مندوبین کی موجودگی میں امریکہ کے افغان طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات ہوئے۔ کیا یہ مذاکرات 17 برسوں سے جاری جنگ کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے راستہ فراہم کر سکتے ہیں؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واشنگٹن اور کابل میں حکومتیں افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کو موخر کرتے ہوئے پہلے طالبان کے ساتھ شراکت والی عبوری حکومت کے قیام اور شورش زدہ ملک سے بین الاقوامی افواج کے مکمل انخلا پر اتفاق کریں تو بڑی کامیابی مل سکتی ہے۔

تجزیہ کار یہ بھی سمجھتے ہیں کہ واشنگٹن کی حکمت عملی میں بظاہر تبدیلی کے پس منظر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی فوجوں کے انخلا کے ساتھ امن عمل کو یقینی بنانے کے لیے سب کو بڑا سرپرائز دے سکتے ہیں۔

پروگرام جہاں رنگ میں اسد حسن کے ساتھ سابق سفیر رستم شاہ مومند، امریکن یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر پروفیسر حیدر مہدی اور افغان صحافی اسداللہ داود زئی نے اس موضوع پر گفتگو میں شرکت کی

افغانستان کے لیے پاکستان کے سابق سفیر رستم شاہ مومند کہتے ہیں کہ افغانستان سے امریکی افواج کا مکمل انخلا افغان طالبان کا اولین مطالبہ ہے اور وہ اب بھی اسی مطالبے کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھے ہوں گے۔

’’ طالبان امریکہ کی ایما پر پاکستان کے اس موقف کو قبول نہیں کریں گے کہ طالبان جنگ بندی کریں اور ہتھیار ڈال کر مذاکرات کی میز پر آئیں اس سے ان کی تحریک ختم ہو جائے گی۔ طالبان اب بھی غیرملکی فوجوں کے انخلا کو اولین ترجیح بنائے ہوئے ہیں‘‘

سابق سفیر کے بقول مذاکرات کو تبھی کامیاب سمجھا جائے گا اگر فریق افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام پر متفق ہو جائیں۔

’’ افغانستان میں انتخابات کو ملتوی کرتے ہوئے عبوری حکومت کے قیام، غیرملکی فوجوں کے انخلا پر رضامندی افغانستان میں امن کی راستہ بن سکتی ہے۔ لیکن اس راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ (رستم شاہ مومند کے بقول) کابل حکومت ہے۔موجودہ حکمران نہیں چاہتے کہ اقتدار میں طالبان شراکت دار بنییں۔ وہ چاہتے ہیں کہ طالبان سے کہا جائے کہ وہ انتخابات جیت کر آئیں۔ اگر طالبان نے یہ بات ماننا ہوتی تو دس سال پہلے کوئی معاہدہ ہو جاتا۔‘‘

کابل میں موجود افغان صحافی اسداللہ داودزئی کہتے ہیں یہ بات درست ہے کہ صدر اشرف غنی اور اتحادی حکومت، عبوری حکومت یا طالبان کے اقتدار میں براہ راست شرکت کے منصوبے کی حامی نہیں ہے مگر سابق صدر حامد کرزئی اور ان کے حامی عبوری حکومت بنانے کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم وہ یہ نہیں سمجھتے کہ کابل حکومت امن کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

کیا عبوری حکومت پر اتفاق ہو سکتا ہے؟

یو اے ای میں امریکن یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر ڈاکٹر حیدر مہدی کہتے ہیں کہ گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے اور صدر ٹرمپ سب کو چونکا سکتے ہیں

’’ صدر ٹرمپ ڈیل کے ماہر ہیں۔ بحیثیت بزنس مین بھی وہ سمجھتے ہیں کہ کچھ لے کچھ دے کی حکمت عملی ہی کارگر رہتی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے امریکہ کی افغانستان سے متعلق حکمت عملی میں تبدیلی نظر آ رہی ہے۔ پہلی بار یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ طاقت کے بجائے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی خواہش ہے۔ لہٰذا اب گیند امریکہ کے کورٹ میں ہے اور صدر ٹرمپ امریکی فوجوں کے انخلا کے اعلان کے ساتھ سب کو حیران کر سکتے ہیں اس طرح عبوری حکومت کے لیے راستہ ہموار ہو جائے گا‘‘

رستم شاہ مومند بھی یہ کہتے ہیں کہ امریکہ کی سوچ میں تبدیلی نظر آتی ہے۔ اگر عبوری حکومت بنا دی جائے تو جنگ اپنے اختتام کو پہنچ سکتی ہے۔ ان کے بقول اسلامی ممالک کی تنظیم کی چھتری تلے غیرجانبدار مسلم فوجوں کی نگرانی بھی بندوبست کا حصہ ہو سکتی ہے۔

رستم شاہ مومند کا کہنا تھا کہ طالبان کو پاکستان پر بھروسا نہیں البتہ سعودی عرب کی موجودگی امریکہ کے ساتھ ڈیل میں بین الاقوامی گارنٹی بن سکتی ہے۔

مزید تفصیلات کے لیے اس آڈیو لنک پر کلک کریں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG