رسائی کے لنکس

logo-print

کابل میں ٹیٹو بنانے والی خاتون


ٹیٹو بنانے والی افغان خاتون

افغانستان کے قدامت پرست معاشرے میں ایک خاتون جان پر کھیل کر نہ صرف خواتین بلکہ مردوں کے جسم پر بھی ٹیٹو بناتی ہیں۔ اس کی آمدنی سے وہ نہ صرف اپنے بیٹے کو پال رہی ہیں بلکہ خود بھی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

ثریا شہیدی نے کابل میں ڈیڑھ سال پہلے موبائل ٹیٹو شاپ کا آغاز کیا تھا۔ انھوں نے آہو کے نام سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنائے ہوئے ہیں اور ان کے ذریعے اپنے کلائنٹس سے رابطہ رکھتی ہیں۔ انتہاپسندوں کے حملے سے بچنے کے لیے انھوں نے مستقل دکان قائم نہیں کی۔

ثریا شہیدی کی شادی کم عمری میں ہو گئی تھی اور طلاق بھی۔ اب وہ اور ان کا بیٹا ان کے والدین کے ساتھ رہتے ہیں۔ ان کے والدین کو ان کے کام پر کوئی اعتراض نہیں۔ ثریا ایک بار ترکی گئیں تو وہاں انھوں نے اپنے ہاتھ پر پہلا ٹیٹو بنوایا۔ اس کے بعد ان کے والد اور بھائی نے ٹیٹو آرٹسٹ بننے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی۔

ثریا مینی کیور اور میک اپ بھی کرتی ہیں۔ ایک بار وہ ایک سیلون میں تھیں تو ان کی ایک کلائنٹ کے شوہر نے انھیں پہچان لیا۔ اس نے دھمکی دی کہ اگر انھوں نے سوشل میڈیا پر ٹیٹوز کی تصویریں پوسٹ کرنا بند نہ کیا تو وہ انھیں جان سے مار دے گا۔

ثریا نے خبر ایجنسی اے پی کو بتایا کہ انھیں دھمکیاں ملتی رہتی ہیں کیونکہ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ جسم گدوانا اسلام میں حرام ہے۔ مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کہ میرے کلائنٹ مرد ہیں یا خواتین۔ میں سب کے جسم پر ٹیٹو بنا دیتی ہوں۔ مجھے اس کام سے محبت ہے اور میں اسے نہیں چھوڑوں گی۔

کابل میں صرف ثریا شہیدی یہ کام نہیں کر رہیں۔ اور بھی کئی ٹیٹو پارلر موجود ہیں جو نوجوانوں کی پسند کی شبیہیں ان کے جسم پر بناتے ہیں۔ روشن خیال لوگ اسے معاشرے میں تبدیلی کا اشارہ سمجھتے ہیں۔

23 سالہ افغان نوجوان عمید نوری کے جسم پر 16 ٹیٹو پہلے سے گدے ہوئے ہیں۔ وہ بازو پر ایک اور ٹیٹو بنوانا چاہتے ہیں لیکن ایسی جگہ جو آستین میں چھپ جائے کیونکہ وہ لوگوں کے طنز سے تنگ آ چکے ہیں۔ وہ اس بات سے بھی پریشان ہیں کہ طالبان واپس آ گئے تو کیا ہو گا؟ انھوں نے خیال ظاہر کیا کہ وہ طالبان کے ہتھے چڑھ گئے تو وہ ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ ڈالیں گے۔

ثریا شہیدی کہتی ہیں کہ اگر طالبان پرامن طور پر واپس آئے تو انھیں خوشی ہو گی۔ لیکن اگر انھوں نے خواتین کی آزادی اور ترقی میں رکاوٹ بننے کی کوشش کی تو وہ سب سے پہلے ان کے خلاف آواز بلند کریں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG