رسائی کے لنکس

logo-print

افغان امریکہ سکیورٹی سمجھوتا، دستخط منگل کو ہوں گے: ترجمان


بتایا جاتا ہے کہ باہمی سلامتی کے سمجھوتے پر دستخط ہونے کے بعد، 10000 امریکی فوجی 2014ء کے بعد بھی افغانستان میں تعینات رہیں گی۔ دستاویز پر دستخط ہونے کے بعد افغان حکومت اور نیٹو کے مابین بھی اِسی طرح کا ایک سمجھوتا طے پانے کی راہ ہموار ہوگی

امریکی محکمہٴخارجہ کی خاتون ترجمان، جین ساکی کا کہنا ہے کہ منگل کے روز کابل میں ایک تقریب منعقد ہوگی جس میں افغان امریکہ سلامتی کے مشترکہ سمجھوتے پر دستخط کیے جائیں گے، جبکہ ایک ہی روز قبل، نئے صدر اشرف غنی نے اپنے عہدے کا حلف لیا ہے۔

پیر کے دِن اخباری بریفنگ کے دوران، اُنھوں نے بتایا کہ اِس موقع پر امریکہ کی نمائندگی کابل میں تعینات امریکی سفیر، جمیز کننگھم کریں گے۔

کابل سے موصول ہونے والی خبروں میں یہ واضح نہیں کہ آیا دستاویز پر نئے افغان صدر، اشرف غنی یا پھر اُن کی طرف سے سابق وزیر داخلہ، حنیف عتمر دستخط کریں گے۔ نئے افغان صدر نے اتمر کو قومی سلامتی کا مشیر مقرر کیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ باہمی سلامتی کے سمجھوتے پر دستخط ہونے کے بعد، 10000 امریکی فوجی 2014ء کے بعد بھی افغانستان میں تعینات رہیں گی۔ دستاویز پر دستخط ہونے کے بعد افغان حکومت اور نیٹو کے مابین بھی اِسی طرح کا ایک سمجھوتا طے پانے کی راہ ہموار ہوگی۔ نیٹو سے ہونے والے سمجھوتے کو ’اسٹیٹس آف فورسز اگریمنٹ (سوفا)‘ کا نام دیا گیا ہے، جِس کی رو سے، افغان قومی سلامتی افواج کو تربیت اور مشاورت فراہم کرنے کے لیے اتحادی اعانت کے تحت، نیٹو کو نئے مشن پر عمل درآمد کی اجازت مل جائے گی۔

ادھر، بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کے دورہٴامریکہ کے بارے میں ایک سوال پر، خاتون ترجمان نے کہا کہ ایجنڈے پر وسیع امور ہیں، جن میں علاقائی امن اور سلامتی بھی شامل ہے۔ اُن سے پوچھا گیا تھا کہ کیا بھارت پاکستان تعلقات پر بھی بات چیت ہوگی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت خطے کا ایک اہم ملک ہے، اور ایجنڈے پر بہت سارے امور شامل ہوں گے، جس میں معاشی امور؛ توانائی کے میدان میں ساجھے داری، سکیورٹی پارٹنرشپ، زیریں ڈھانچے کی ترقی اور باہمی تجارت پیش پیش ہیں۔

ادھر، وائٹ ہاؤس کی اخباری بریفنگ کے دوران، ترجمان جوش ارنیسٹ نے کہا کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان بات چیت کے دوران باہمی مفادات کے متعدد امور زیرِ غور آئیں گے۔

اُن سے پوچھا گیا تھا کہ بھارت ’ورلڈ ٹریڈ آرگینائزیشن‘ کا رُکن نہیں ہے۔ آیا یہ معاملہ بھی زیر غور آئے گا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک تعلقات ہیں، جو محدود نوعیت کے نہیں ہیں، بلکہ یہ وسیع تر فریم ورک پر محیط ہیں، جِن سے دونوں ملکوں کے درمیان قربت کا اندازہ ہوتا ہے۔

بقول ترجمان، تجارت اور معاشی امور کے علاوہ، ’اسٹریٹجک پارٹنرشپ پر خصوصی دھیان مرکوز رہے گا‘۔

XS
SM
MD
LG