رسائی کے لنکس

logo-print

صدر غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان جلد تصفیہ ہو جائے گا: افغان نائب صدر


(فائل فوٹو)

افغانستان کے نائب صدر دوم محمد سرور دانش نے کہا ہے کہ صدر اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان جاری سیاسی تنازع جلد حل ہو جائے گا۔ ان کے بقول دونوں رہنما افغانستان میں ایک قومی جامع حکومت سے متعلق آئندہ چند روز میں ایک حتمی معاہدے پر پہنچ جائیں گے۔

افغان نائب صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سرور دانش نے یہ بات افغانستان میں اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ دیبرا لاینز سے جمعرات کو ویڈیو کال کے ذریعے ہونے والی گفتگو کے دوران بتائی ہے۔

گفتگو میں افغان عمل، افغانستان کے سیاسی معاملات، کرونا وائرس اور بین الافغان مذاکرات کے بارے میں تبادلہ خیال ہوا۔

افغان نائب صدر نے اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ کو بتایا کہ عبد اللہ عبد اللہ اور صدر غنی کے مابین سیاسی تناؤ جلد ہی ختم ہو جائے گا۔

ان کے بقول افغانستان میں "قومی شمولیت کی حکومت" کے فریم ورک کے اندر اتحاد اور تعاون کو مستحکم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ لہذٰا بہت جلد صدر غنی اور عبداللہ عبداللہ بھی کسی حتمی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔

اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ عبداللہ عبداللہ اعلٰی مفاہمتی کونسل کی قیادت کا عہدہ قبول کر لیں گے۔

افغان نائب صدر دوم سرور دانش (فائل فوٹو)
افغان نائب صدر دوم سرور دانش (فائل فوٹو)

افغان نائب صدر کے بیان پر تاحال عبداللہ عبداللہ کے دفتر سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

لیکن بعض اطلاعات کے مطابق عبداللہ عبداللہ افغان حکومت میں ایک موثر شراکت داری کے خواہاں ہیں۔ جس میں ان کے پاس بعض صوبوں کے گورنر تعینات کرنے کا اختیار ہو۔ خاص طور پر وہ صوبے جہاں اُنہوں نے صدارتی انتخابات میں زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔

افغان نائب صدر کا غنی، عبداللہ تنازع کے جلد حل ہونے کے بارے میں یبان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے۔ جب بدھ کو افغانستان میں یورپی یونین کے مشن نے افغان سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ وہ اپنے سیاسی اختلافات کو جلد ازجلد حل کریں۔

یورپی یونین نے افغانستان کی سیاسی قیادت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے اختلافات ختم کریں۔ بصورت دیگر افغانستان کو مستقبل میں دی جانے والی امداد پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

یہ بیان افغانستان میں یورپی یونین کے خصوصی نمائندے اور یورپی یونین کے دیگر سفیروں کی عبداللہ عبداللہ سے فون پر ہونے والی بات چیت کے بعد جاری کیا گیا تھا۔

عبداللہ عبداللہ نے بعدازاں ایک ٹوئٹ میں کہا کہ انہوں نے یورپی یونین کے سفیروں کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ جہاں تک ان کا تعلق ہے وہ سیاسی تعطل کا جلد خاتمہ چاہتے ہیں۔ تاکہ کرونا وائرس کی وبا اور امن کی کوششوں سے متعلق مشترکہ کاوشیں کی جا سکیں۔

جمعرات کو افغان نائب صدر اور اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے نے افغانستان کے سیاسی معاملات کے علاوہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ، امن عمل اور طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔

افغان نائب صدر سرور دانش نے کہا ہے کہ افغان حکومت نے طالبان کے ساتھ بات چیت کے لیے جامع مذاکراتی ٹیم تشکیل دی۔ تشدد کے خاتمے اور قیدیوں کی رہائی کے معاملات پر بھی پہل کی، لیکن طالبان نے اس کا مثبت ردعمل نہیں دیا۔

اُن کے بقول اب بھی طالبان پرتشدد کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

افغان نائب صدر نے کہا کہ بین الافغان مذاکرات کا مرحلہ آسان نہیں ہو گا۔ لہذٰا بین الاقوامی برادری اور اقوامِ متحدہ کو اس ضمن میں کردار ادا کرنا ہو گا۔

طالبان قیدیوں کی رہائی

ادھر افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ٹوئٹر پر اعلان کیا ہے کہ طالبان نے افغان حکومت کے 12 مزید فوجیوں کو رہا کر دیا ہے۔

شاہین کے بقول اب تک افغان حکومت کے 52 قیدی رہا کیے جا چکے ہیں۔

دوسری طرف افغان حکومت اب تک ملک کے 18 صوبوں سے 550 طالبان قیدیوں کو رہا کر چکی ہے۔ یاد رہے کہ رواں سال فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت بین الافغان مذاکرات سے قبل حکومت کو طالبان کے پانچ ہزار قیدیوں کو رہا کرنا تھا۔

طالبان کی جانب سے بھی ایک ہزار افغان قیدیوں کو رہا کیا جانا تھا۔ لیکن یہ عمل نہایت ہی سست روی سے جاری ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG