رسائی کے لنکس

logo-print

افغان امن معاہدہ اور افغان حکومت، تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟


فائل

ایک ایسے وقت میں جب افغانستان کے طالبان اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے بعد وہاں قیام امن کی کچھ امید پیدا ہو رہی ہے اور امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات بھی کی ہے، افغان صدر کے نائب ترجمان کے اس بیان نے مبصرین اور تجزیہ کاروں کو حیران کردیا ہے کہ “پاکستان اپنے ہاں عسکریت پسندوں کی مبینہ پناہ گاہوں کو ختم کرے اور انسداد دہشت گردی کے لئے نیک نیتی سے اقدامات کرے”۔

اس بیان کے لئے جو وقت منتخب کیا گیا ہے تجزیہ کار اس کے بارے میں بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔

دفاعی امور کے ممتاز تجزیہ کار ریٹائرڈ جنرل امجد شعیب نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ، بقول ان کے، افغان صدر جانتے ہیں کہ اگر امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے پر پوری طرح عمل درآمد ہو گیا تو وہ افغان سیاست میں غیر متعلق ہو کر رہ جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ اسی لئے وہ اس معاہدے کو ناکام بنانے پر آمادہ نظر اتے ہیں۔ اور اس کے لئے انہیں خطے کے ایک بڑے ملک کی حمایت بھی حاصل ہے جو خود بھی یہ نہیں چاہتا کہ افغانستان میں طالبان حکومت کا حصہ بنیں۔

جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ افغانستان پاکستان سے بھاگے ہوئے ان ہزاروں پاکستانی طالبان کے بارے میں کیا کر رہا ہے جو افغانستان میں مقیم ہیں اور وہاں سے پاکستان کو نشانہ بناتے رہتے ہیں اور جب ان سے اس بارے میں کہا جاتا ہے تو افغانستان کا جواب ہوتا ہے کہ ان علاقوں پر اس کا کنٹرول نہیں ہے جہاں وہ مقیم ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن پاکستان کی شدید ضرورت ہے اور اسی لئے وہ اس سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اور پاکستان پر یہ الزام تراشی بے بنیاد اور ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو افغان حکومت کو معاہدے پر عمل درآمد کے سلسلے میں سنجیدگی اختیار کرنے کے حوالے سے سختی کرنا ہوگی۔

افغانستان کے ایک تجزیہ کار اور افغان صدر اشرف غنی کی صدارتی مہم کے ایک اہم عہدیدار، کابل یونیورسٹی کے پروفیسر نجیب اللہ آزاد کا خیال مختلف تھا۔ وائس آف امریکہ سے اس بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’افغان حکومت کو پاکستان سے جو توقعات تھیں اور جو وہ چاہتی تھی کہ پاکستان کردار ادا کرے وہ کردار پاکستان ادا نہیں کر رہا۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ''حال ہی میں طالبان کے مستقبل کے ملک کے مجوزہ آئین کی شقیں افشا ہوئی ہیں اور ان میں جس انداز میں پاکستان کا ذکر کیا گیا''، وہ ،بقول ان کے، حکومت اور عوام کے لئے قابل برداشت نہیں ہے اور وہ نہیں ہونا چاہئیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ افغان حکومت سمجھتی ہے کہ پاکستان کی جانب سے اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے، کیونکہ پاکستان افغانستان میں ایک ایسی حکومت چاہتا ہے جس پر طالبان کا غلبہ ہو اور جو پاکستان کی حامی حکومت ہو، کیونکہ اس سے اس کے جغرافیائی سیاسی مفادات وابستہ ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان، افغانستان میں ایک لبرل حکومت کو اپنے مفاد میں نہیں سمجھتا اور امریکہ بھی افغانستان میں ایک ایسی نام نہاد یونیٹی گورنمنٹ چاہتا ہے جو کمزور ہو۔ اسی لئے افغانستان کی ایک ارب ڈالر سے زیادہ کی امداد اس وقت تک کے لئے روک لی گئی ہے جب تک کہ یونیٹی گورنمنٹ نہ بن جائے۔

افغان امور کے ایک اور تجزیہ کار عقیل یوسفزئی نے اس بارے میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں انتہائی مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ اور یہ تاثر بھی قطعی غلط ہے کہ طالبان پر پاکستان کا اب بھی وہی اثر و رسوخ ہے جو پہلے ہوتا تھا، لیکن اس کے باوجود پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ امریکہ اور طالبان کے معاہدے پر عمل درآمد ہو اور افغانستان میں امن قائم ہو، کیونکہ وہاں امن پاکستان کے لئے بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا خود افغانستان کے لئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG