رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان میں حملوں میں اضافہ، امن معاہدے کا مستقبل کیا ہوگا؟


فائل

افغانستان کے دارالحکومت کابل اور ننگر ہار صوبے میں دو الگ الگ حملوں میں جن میں سے ایک کابل کے ایک اسپتال پر اور دوسرا ننگر ہار صوبے میں ایک پولیس افسر کے جنازے پر کیا گیا، جو ایک روز قبل ایک دھماکے میں ہلاک ہوئے تھے، 38 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کے باوجود افغانستان میں گزشتہ چند ماہ کے دوران تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔ اور بعض ماہرین کا خیال ہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان معاہدے پر درست طریقے سے عمل نہ ہونے کے سبب ان قوتوں کو افغانستان کا امن، جن کے مفاد میں نہیں ہے یا جنہیں 'گیم اسپوائلر' کہہ سکتے ہیں، اپنا کھیل کھیلنے کا موقع مل گیا ہے۔

اس بارے میں انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے بریگیڈیئر سید نذیر نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'گیم اسپوائلر' میں بعض ممالک اور ان کے انٹیلیجینس ادارے شامل ہیں جو، بقول ان کے، اپنا کھیل کھیل رہے ہیں۔ اور یہ کہ، اس معاہدے پر عمل درآمد میں جتنی تاخیر ہوگی، بگاڑ پیدا کرنے والوں کو اتنا ہی زیادہ موقع ملے گا کہ افغانستان امن سے دور ہوتا جائے؛ اور ایسے میں، افغانستان میں پراکسی وار کا دائرہ اتنا ہی وسیع ہوتا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ''افغانستان میں داعش بھی تو بہرحال کسی کے لئے کام کر ہی رہی ہے اور یہ بات ناقابل فہم ہے کہ جب خراسان چیپٹر کا سربراہ اسلم فاروقی افغانستان میں گرفتار ہوتا ہے۔ اور پاکستان اس کی حوالگی کا مطالبہ کرتا ہے تو یہ کہہ کر اس مطالبے کو مسترد کردیا جاتا ہے کہ وہ تو پاکستان کا ہی تربیت یافتہ ہے''۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کی جانب سے بعض حملوں میں ملوث ہونے کی تردید سمجھ میں آنے والی بات ہے، کیونکہ اوّل تو وہ خود امن کے دعویدار ہیں؛ دوسرے وہ امن معاہدے میں فریق ہیں؛ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ امن اب خود ان کے مفادات کے لئے ضروری ہے۔

بریگیڈیئر سید نذیر نے مزید کہا کہ افغانستان میں جو امن کے اسٹیک ہولڈرز ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ 'گیم اسپوالر' کی نشاندہی کرکے انہیں اس سے باز رکھنے کے لئے اقدامات کریں اور افغانستان اور خطے میں ایک اور پراکسی وار بھڑک اٹھنے سے روکیں۔

جرمنی میں مقیم ممتاز افغان صحافی اور تجزیہ کار، ڈاکٹر حسین یاسا نے اس بارے میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کا موقف یہ ہے کہ ان کا معاہدہ افغان حکومت سے نہیں بلکہ امریکہ سے ہے۔ دوسری جانب، افغان حکومت کہتی ہے کہ معاہدہ طالبان اور امریکہ کے درمیان ہے اور وہ اس پر عمل درآمد کی پابند نہیں ہے۔

دونوں فریقوں کے اس موقف کی وجہ سے پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ پھر وہ غیر مرئی قوتیں ہیں جن کے مفادات کو قیام امن سے نقصان کا اندیشہ ہے اور اس عنصر کو شکست دینے کے لئے طالبان اور سیاسی قیادت کو مل کر کام کرنا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی حالیہ تاریخ بتاتی ہے کہ جن حکومتوں کا انحصار بیرونی قوتوں پر ہوتا ہے، ان کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا اور طالبان اسی بات کے منتظر ہیں کہ امریکہ افغانستان سے نکلے۔ وہاں حکومت ختم یا انتہائی کمزور ہو جائے اور وہ وارث بن جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی تیاری میں طالبان نے اب شمالی علاقوں پر حملے بھی شروع کردئے ہیں۔ لیکن، وہاں ان کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے اور شمالی علاقوں کے لوگ پوری طرح سے تیار ہیں۔

دوسری جانب، افغانستان کے شمالی پڑوسی ممالک بھی افغانستان کے شمالی علاقوں یعنی اپنی سرحدوں کے قریب طالبان کا کنٹرول قبول نہیں کریں گے۔ اس لئے صورت حال روز بروز پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے اور اگر اس سلسلے میں کچھ نہ کیا گیا تو خطہ مسلسل بے یقینی کی صورت حال کا شکار رہے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG