رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: خواتین فضائی میزبانوں کی ملازمتیں خطرے میں پڑ گئیں


فائل فوٹو

کرونا وائرس کے باعث جہاں دنیا بھر میں ایوی ایشن انڈسٹری کو نقصان ہو رہا ہے، وہیں فضائی آپریشن معطل ہونے سے افغانستان کی ایئر لائنز بھی بحران کا شکار ہیں۔ جس سے کئی خواتین فضائی میزبانوں کا روزگار بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔

شگوفہ حیدری بھی ایسی ہی فضائی میزبانوں میں شامل ہیں جو کرونا وبا کے باعث فلائٹ آپریشن بند ہونے سے متاثر ہوئی ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر خواتین ایئر ہوسٹس بھی گھروں تک محدود ہیں۔

افغانستان میں ایوی ایشن انڈسٹری سے منسلک خواتین کو خدشہ ہے کہ مالی نقصانات کے باعث ان میں سے بیشتر کی ملازمتیں ختم ہو سکتی ہیں۔

افغانستان کی 'کام ایئر' اندرونِ ملک پروازوں کے علاوہ نئی دہلی، اسلام آباد اور استنبول بھی جاتی ہے۔ لیکن کرونا کے باعث فلائٹ آپریشن معطل ہونے سے ایئر لائن کو مالی خسارے کا سامنا ہے۔

ایئر لائن نے اپنے 80 فی صد سے زائد عملے کو تںخواہ کے بغیر گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔ ایئر لائن کے مطابق اسے ہر ہفتے 65 لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا ہے۔

شگوفہ حیدری
شگوفہ حیدری

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ایوی ایشن انڈسٹری مالی بحران سے دو چار ہے۔ لیکن افغانستان میں اس کا دہرا نقصان ہو گا۔

اُن کے بقول قدامت پسند افغان معاشرے میں خواتین کو ویسے ہی بہت کم مواقع میسر آتے ہیں۔ لہذٰا ان خواتین فضائی میزبانوں کی ملازمتیں ختم ہوئیں تو یہ ان کی خود مختاری کے لیے بھی بڑا دھچکا ہو گا۔

بعض ماہرین کہتے ہیں کہ اب جب کہ طالبان کو بھی حکومت میں شامل کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ لہذٰا خواتین کے لیے مواقع مزید کم ہو سکتے ہیں۔

شگوفہ حیدری نے تین سال قبل 'کام ایئر' میں بطور فضائی میزبان کام شروع کیا تھا۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' سے گفتگو میں اُنہوں نے بتایا کہ یہ موقع اُن کے لیے کسی خواب کے پورا ہونے سے کم نہیں تھا۔ اس میں آپ کو پوری دنیا گھومنے کا موقع ملتا ہے اور یہ کسی مہم جوئی سے کم نہیں ہے۔

اُن کے بقول کچھ کر گزرنے کی ہمت رکھنے والی افغان خواتین کو ایسے مواقع ملنا بہت ضروری ہیں۔

افغانستان کی ایئر لائن انڈسٹری کو مالی خسارے کا سامنا ہے۔ (فائل فوٹو)
افغانستان کی ایئر لائن انڈسٹری کو مالی خسارے کا سامنا ہے۔ (فائل فوٹو)

طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان میں خواتین کے حالات خاصے بہتر ہوئے تھے۔ دو دہائیوں کے دوران بڑی تعداد میں خواتین نے اعلٰی تعلیم حاصل کی۔ خواتین کو مختلف کاروباری شعبوں اور سیاست میں بھی آگے آنے کے مواقع میسر آئے۔

اس کے باوجود یہ شرح مردوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ گیلپ سروے کے مطابق لیبر مارکیٹ میں پانچ مردوں کے مقابلے میں صرف ایک خاتون کام کر رہی ہے۔ خواتین کی بے روزگاری کی شرح بھی 67 فی صد ہے۔

ملازمت کرنے والی افغان خواتین کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ اُن کے لیے آسان نہیں۔ اب بھی اُنہیں قدامت پسند رشتہ داروں کے دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔

بہت سے لوگوں کو خدشہ ہے کہ ملازمت پیشہ افغان خواتین کے لیے حالات اُس وقت مزید خراب ہوں گے جب طالبان کو حکومت میں حصہ ملے گا۔

خیال رہے کہ رواں سال فروری میں امریکہ، طالبان امن معاہدے کے بعد ایک بار پھر طالبان کو حکومت میں شامل کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔

افغانستان کی سرکاری ایئر لائن آریانہ کو بھی خسارے کا سامنا ہے۔ (فائل فوٹو)
افغانستان کی سرکاری ایئر لائن آریانہ کو بھی خسارے کا سامنا ہے۔ (فائل فوٹو)

البتہ طالبان کا یہ مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ اب اُن کی پالیسی میں تبدیلی آئی ہے اور وہ خواتین کو گھر سے باہر کام کرنے کی اجازت دینے میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔

افغانستان کی سرکاری ایئر لائن 'آریانہ' کے 580 ملازمین میں 30 فی صد یعنی 106 خواتین ہیں۔ ان میں 46 فضائی میزبان ہیں جب کہ کچھ پائلٹس اور اعلٰی عہدوں پر بھی تعینات ہیں۔

'کام ایئر' کے کمرشل آفیسر سلیمان عمر کا کہنا ہے کہ اُن کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ خواتین کو آگے لائیں۔ اُن کے بقول ہم جنس کی بنیاد پر نہیں، بلکہ تعلیم اور قابلیت پر عملے کا انتخاب کرتے ہیں۔

سلیمان عمر کا کہنا ہے کہ کرونا وبا کے باعث ہونے والے خسارے سے ہمیں دیوالیہ ہونے کے خطرے کا سامنا ہے۔

سرکاری ایئر لائن آریانہ کو بھی مالی بحران کا سامنا ہے۔ پہلی سہ ماہی میں ایئر لائن کو 4.3 ملین ڈالر نقصان ہوا۔ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران ایئر لائن کو 14 ملین ڈالر آمدنی ہوئی تھی۔

افغانستان کی ایئر لائن انڈسٹری نے نقصانات کے ازالے کے لیے حکومت سے مدد کی اپیل بھی کر رکھی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG