رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کی طرف سے افغانستان میں خودکش حملے کی شدید مذمت


اُدھر افغان عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صوبہ پکتیکا کے ضلع یحییٰ خیل میں والی بال میچ کے دوران اتوار کو ہونے والے خودکش حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 50 ہو گئی ہے۔

پاکستان نے افغانستان کے صوبہ پکتیکا میں ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

وزیراعظم نواز شریف نے اپنے ایک بیان میں انسانی جانوں کے ضیاع کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی پاکستان اور افغانستان کا مشترکہ دشمن ہے جس کے خلاف مل کر کوششیں کی جا رہی ہیں۔

اُدھر افغان عہدیداروں کا کہنا ہے کہ صوبہ پکتیکا کے ضلع یحییٰ خیل میں والی بال میچ کے دوران اتوار کو ہونے والے خودکش حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 50 ہو گئی ہے۔

اس خودکش حملے میں ساٹھ سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔

اُدھر پاکستانی وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بھی پکتیکا میں ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ معصوم افراد کو دہشت گردانہ حملوں میں نشانہ بنانے کا کوئی جواز نہیں۔

رواں ماہ ہی افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پاکستان کا دورہ کیا تھا،اُن کی پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت سے ہونے والی ملاقاتوں میں دہشت گردی کے خلاف مل کر کوششیں کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا تھا۔

افغان حکام کے مطابق حملے میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد عام شہری تھے جو کہ والی بال میچ دیکھنے کے لیے جمع تھے کہ اس دوران خود کش حملہ آور نے اُن کے درمیان اپنے جسم سے بندھے بارودی مواد میں دھماکا کر دیا۔

افغانستان میں طالبان کے حملوں میں ایک مرتبہ پھر تیزی ایسے وقت آئی جب آئندہ مہینے کے اواخر تک غیر ملکی افواج انخلا کی تیاریاں کر رہی ہیں۔

پکتیکا میں اس خودکش بم دھماکے سے چند گھنٹے قبل ہی افغانستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں نے امریکہ اور نیٹو کے ساتھ دو طرفہ سکیورٹی معاہدے کی توثیق کی تھی۔

ان معاہدوں کے تحت دسمبر 2014ء میں افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلاء کے بعد بھی وہاں 9,800 امریکی فوجیوں سمیت لگ بھگ 12000 غیر ملکی فوجی یہاں موجود رہیں گے۔​

XS
SM
MD
LG