رسائی کے لنکس

logo-print

'افغانستان میں جنگ بندی کے اعلانات حوصلہ افزا ہیں'


گزشتہ ماہ انڈونیشیا میں ہونے والے سہ ملکی علما اجلاس نے بھی فریقین سے افغانستان میں جاری خانہ جنگی کو بات چیت سے حل کرنے کا کہا تھا (فائل فوٹو)

اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کی حالیہ کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے افغان حکومت کی جانب سے جنگ بندی کے غیر مشروط اعلان اور طالبان کی طرف سے عیدالفطر کے موقع پر تین روز کے لیے حملے روکنے کے بیان کو مثبت اور خوش آئند پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اعلانات حوصلہ افزا ہیں۔

پیر کو وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ یہ دونوں فریقین (افغان حکومت اور طالبان) کی طرف سے خیر سگالی کے جذبات کا اظہار لگتا ہے۔

"یہ دکھائی دیتا ہے کہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی (غیر رسمی رابطے) کافی عرصے سے جاری تھی۔ اس کی کامیابی کی ایک صورت یہاں نظر آ رہی ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ یہ سلسلہ آگے بڑھے گا اور مزید جنگ بندیوں کے فیصلے ہوں گے۔"

قبلہ ایاز نے کہا کہ چین میں شنگھائی تعاون تنظیم کا جو حالیہ سربراہ اجلاس ہوا ہے اس موقع پر بھی پاکستان کے صدر ممنون حسین نے افغانستان میں امن کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔

اُدھر اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کی حالیہ کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

بیان کے مطابق پاکستان افغانوں کی زیرِ قیادت امن و استحکام کی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز گزشتہ ماہ جکارتہ میں ہونے والے پاکستان، افغانستان اور انڈونیشیا کے علمائے دین کے سہ فریقی اجلاس میں شریک پاکستانی وفد میں بھی شامل تھے۔

اُنھوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام میں علما کا اہم کردار ہے اور انڈونیشیا میں ہونے والے اجلاس کے بعد علما نے بھی اپنے مشترکہ اعلامیے میں افغانستان کا مسئلہ بات چیت سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا تھا، "طالبان پر یہ زور دیا جا رہا ہے کہ وہ مشروط مذاکرات کی بات نہ کریں۔۔۔ اگر ٹریک ٹو ڈپلومیسی بھی جاری رہے اور (علما) کی طرف سے اس قسم کے مشورے بھی جاری رہیں تو امکان ہے کہ مذاکرات کی کوئی کیفیت پیدا ہو سکے۔"

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے افغانستان کے صدر اشرف غنی کی جانب سے رمضان کے آخری عشرے اور عید الفطر کے موقع پر طالبان عسکریت پسندوں کے خلاف یک طرفہ جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔

سلامی کونسل کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں طالبان کی طرف سے بھی عید الفطر کے موقع پر جنگ نہ کرنے کے اعلان کو سراہا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ’ایس سی او‘ سربراہ اجلاس کے موقع پر اپنے خطاب میں صدر ممنون حسین نے کہا تھا کہ پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ پڑوسی ملک میں امن افغانوں کی زیرِ قیادت مذاکرات ہی سے ممکن ہے اور اُن کے بقول امن و مصالحت کی کوششوں میں پاکستان اپنی حمایت و مدد جاری رکھے گا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ایک مرتبہ پھر اس عزم کو دہرایا تھا کہ ان کی حکومت طالبان کے ساتھ تنازع کا سیاسی حل چاہتی ہے۔

صدر غنی نے گزشتہ ہفتے طالبان کے ساتھ یک طرفہ طور پر غیر مشروط جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ افغان حکومت کی طرف سے جنگ بندی 20 جون تک موثر رہے گی۔

افغان صدر کی طرف سے طالبان کے ساتھ غیر مشروط جنگ بندی کا اعلان پہلی مرتبہ کیا گیا ہے جس کے بعد طالبان نے بھی عید الفطر کے موقع پر تین روز کے لیے جنگ بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

طالبان کی طرف سے جاری بیان میں اپنے تمام جنگجوؤں سے کہا گیا ہے کہ وہ عیدالفطر کے پہلے، دوسرے اور تیسرے روز کوئی کارروائی نہ کریں گے۔ لیکن بیان کے مطابق اگر اُن پر حملہ ہوتا ہے تو وہ اس کا دفاع کر سکتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے ہی امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے دیگر معاملات کے علاوہ افغانستان میں امن و مصالحت کی کوششوں پر بھی بات چیت کی تھی۔

امریکی حکومت کی ایک اعلیٰ عہدیدار لیزا کرٹس نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں افغان حکومت کی مدد کرے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG