رسائی کے لنکس

logo-print

چین کے لیے پہلی افغان ’کارگو فلائیٹ‘ کا آغاز


چاروں طرف زمین سے گھرے ہوئے افغانستان نے چین کے ساتھ پہلی براہِ راست فضائی پرواز کا آغاز کیا ہے۔ افتتاحی کارگو فلائیٹ پر 20 ٹن چلغوزے کی رسد لدی ہوئی تھی۔

افغان صدر اشرف غنی اور اعلیٰ چینی سفارت کاروں نے منگل کے روز کابل میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں شرکت کی؛ اس توقع کا اظہار کرتے ہوئے کہ فضائی راہداری افغان برآمدات کے فروغ کے لیے سودمند ثابت ہوگی، جس میں خشک میوہ جات اور تازہ پھل چینی منڈی کو بھیجے جائیں گے، جس کی مدد سے تجارتی خسارے کے توازن میں کمی کو بڑی حد تک دور کیا جا سکے گا۔

گذشتہ سال کے دوران، افغانستان نے بھارت، ترکی، قازقستان، سعودی عرب اور انڈونیشیا کے ساتھ فضائی پروازوں کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

ایک صدارتی بیان میں بتایا گیا ہے کہ کارگو سروس کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر چین کو 20 ٹن چلغوزے برآمد کیے جائیں گے، جس کی درآمد اس سال کے آخر تک جاری رہے گی۔ چین افغان چلغوزے کا سب سے بڑا خریدار ہے۔

افغان اہل کاروں کے ایک اندازے کے مطابق، اس فضائی راہداری کی مدد سے چین کو سالانہ 23000 ٹن چلغوزے کی نقل و حمل ہوگی، جس سے ملک کو 80 کروڑ ڈالر کی آمدن حاصل ہوگی۔

غنی نے چلغوزے، پستے اور زیرے کی تجارت کو افغانستان کا ’’چھپا ہوا خزانہ‘‘ قرار دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ تجارتی راہداریاں ملک کو اس قابل بنائیں گی کہ ان برآمدی اشیا کی قدر سے پورا پوارا فائدہ اٹھایا جا سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG