رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: عام شہریوں کی ہلاکتوں پر نیٹو نے معافی مانگ لی


نیٹو نے اُن چار افغان شہریوں کی موت پر معافی مانگ لی ہے اور کہا ہے کہ اُن کی وہ رپورٹ جس میں ہلاک ہونے والے دو افراد کو” معروف باغی کہا گیا تھا“ دُرست نہیں تھی۔

نیٹو نے کہا ہے کہ فوجیوں نے پیر کے روز صوبہ خوست میں اُس موٹر گاڑی پر اُس وقت فائرنگ کی تھی ، جب اُس میں سوار لوگوں نے گاڑی روکنے کے لیے انتباہ کو نظر انداز کردیا تھااور گاڑی تیز رفتار سے فوجی موٹر گاڑیوں کے قافلے کی جانب بڑھ رہی تھی۔

ہلاک شدگان کے اہل خاندان نے ہلاکتوں پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سب 18، 19 سال کے نوجوان تھے اور والی بال کے ایک میچ کے بعد واپس گھر جارہے تھے۔

نیٹو کے ایک ترجمان نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ شروع میں دو ہلاک شدگان کو باغی قرار دینے کی وجہ یہ تھی کہ اُن کی انگلیوں کے نشان، ماضی میں باغیوں کی سرگرمیوں سے متعلق ریکارڈ میں محفوظ نشانوں سے ملتے تھے۔ لیکن نیٹو نے کہا ہے کہ ریکارڈ میں انگلیوں کے نشانات کی موجودگی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ واقعی جنگجو تھے۔

نیٹو نے یہ بھی کہا ہے کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ فوجی جنگ سے متعلق اصولوں اور ہدایات کو سمجھتے ہوں اور وہ اُن گذشتہ واقعات سے سبق حاصل کرسکیں، جن میں عام شہریوں کا جانی نقصان ہوا تھا،پورے افغانستان میں تربیت دینے والے ماہرین کو تعینات کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG