رسائی کے لنکس

logo-print

ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے افغانستان میں اپنی سرگرمیاں روک دیں


کابل کے ایک زچہ بچہ اسپتال کے چند نوزائیدہ بچے جن کی مائیں دہشت گردوں کے حملے میں ہلاک ہوگئیں۔ 15 مئی 2020

انسانی بنیادوں پر طبی سہولتیں فراہم کرنے والی عالمی تنظیم ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک ہسپتال کے زچہ بچہ وارڈ پر گزشتہ ماہ حملے کے بعد وہاں اپنی سرگرمیاں ختم کردی ہیں۔

ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے، جس کا فرانسیسی مخفف ایم ایس ایف ہے، پیر کو ایک بیان میں اپنے فیصلے کا اعلان کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دشتِ برچی اسپتال پر 12 مئی کے ہولناک حملے کی ذمے داری کسی نے قبول نہیں کی اور نہ ہی حملہ آوروں کا مقصد اور ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے آئی ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں 16 خواتین کو ایک نظم و ترتیب کے ساتھ ہلاک کیا گیا تھا۔ حملے میں ایم ایس ایف کے ساتھ کام کرنے والی ایک نرس، دو چھوٹے بچے اور 6 دیگر لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایم ایس ایف نومبر 2014 سے اسپتال کے زچہ بچہ وارڈ کو چلا رہی تھی اور وہاں مفت علاج کررہی تھی۔ تنظیم نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مستقبل میں بھی اس کے عملے اور مریضوں پر ایسے حملے ہوسکتے ہیں۔

تنظیم کے جنرل ڈائریکٹر تھیری ایلا فورٹ ڈوورجر نے کہا کہ عملہ اس بات سے آگاہ تھا کہ دشت برچی میں ان کی موجودگی خطرے کا باعث تھی۔ لیکن یہ بات ان کے تصور میں بھی نہیں آسکتی تھی کہ حاملہ خواتین کی کمزوری و لاچاری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کوئی انہیں اور ان کے بچوں کو ختم کردے گا۔

ایم ایس ایف کے مطابق ہلاک ہونے والی پانچ خواتین زچگی سے چند منٹ یا زیادہ سے زیادہ چند گھنٹے دور تھیں۔ ایک گزشتہ بیان میں ایم ایس ایف نے مطالبہ کیا تھا کہ اس خونیں حملے کی تحقیقات کی جائیں اور ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ افغان عہدیداروں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ حملے کی پوری طرح سے تحقیقات کریں گے لیکن تب سے اب تک انہوں نے تحقیقات کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔

حکومت نے ابتدا ہی سے حملے کا الزام طالبان پر عائد کیا تھا تاہم کچھ دیگر لوگ داعش کو اس کا قصوروار قرار دیتے ہیں۔ طالبان نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس میں ملوث ہونے کو مسترد کیا تھا اور داعش کی جانب اشارہ کیا تھا۔

امریکہ نے بھی کھلے عام داعش کو اس کا ذمے دار قرار دیا تھا۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ داعش افغانستان میں طالبان اور دیگر گروپوں کے درمیان دو عشروں سے جاری تنازعے کو پر امن طریقے سے حل کرنے کی امریکی کوششوں کے خلاف ہے۔

حملے کا نشانہ بننے والا اسپتال کابل کے مغربی علاقے میں ہے جہاں کی زیادہ آبادی ہزارہ برادری سے تعلق رکھتی ہے۔ ہزارہ برادری اہل تشیع ہیں اور ان کی عبادت گاہوں اور اجتماعات پر حملے معمول ہیں۔ ہزارہ برادری پر ہونے والے تمام حالیہ حملوں کی ذمے داری داعش نے قبول کی ہے۔

امدادی تنظیم نے اپنی کارروائیوں کو ختم کرنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دردناک لیکن ضروری تھا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسپتال کا زچہ وارڈ دس لاکھ سے زیادہ افراد کی آبادی کی خدمت کررہا تھا، جنہیں پہلے ہی طبی سہولتوں تک محدود رسائی حاصل ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دشتِ برچی کا میٹرنٹی وارڈ ایم ایس ایف کے دنیا بھر میں چلنے والے چند بڑے منصوبوں میں سے ایک تھا اور 2019 میں یہاں 16 ہزار بچے پیدا ہوئے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایم ایس ایف کو اسپتال میں اپنا کام ختم کرنے پر مجبور کئے جانے سے خواتین اور بچوں کی ضروری طبی سہولتوں تک رسائی ختم ہوگئی ہے۔ افغانستان میں زچہ و بچہ کی شرح اموات بہت زیادہ ہے۔

تاہم تنظیم کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے کارروائیاں ختم کرنے کے باوجود ایم ایس ایف مختلف طریقوں پر غور کررہی ہے جن سے وہ مقامی سطح پر طبی سہولتیں فراہم کرنے والے منصوبوں میں تعاون کرسکے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ گزشتہ 16 برسوں کے دوران افغانستان میں چلنے والے طبی پروگراموں میں اس کے عملے کے ارکان اور مریضوں سمیت 70 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG